جرمنی کے سابق انٹیلیجنس سربراہ جاسوسی اور غداری کے الزامات میں گرفتار

سابق بی این ڈی اہلکار پر رقم کے عوض خفیہ دستاویزات فراہم کرنے کا الزام

October 6, 2026 · بام دنیا

سابق انٹیلی جنس سربراہ اگست ہیننگ— فوٹو: فائل

جرمنی کے سابق انٹیلیجنس سربراہ اگست ہیننگ کو جاسوسی، غداری اور ایک غیر ملکی قوت کے لیے خفیہ معلومات حاصل کرنے کے شبہے میں گرفتار کر لیا گیا۔

جرمن فیڈرل پراسیکیوٹر آفس کے مطابق اگست ہیننگ 1998 سے 2005 تک جرمن فیڈرل انٹیلیجنس سروس ’بی این ڈی‘ کے سربراہ رہے اور اس کے بعد سے بطور پرائیویٹ کنسلٹنٹ کام کر رہے تھے۔

پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ انہوں نے ایک غیر ملکی انٹیلیجنس سروس کے لیے ’معلومات کا تجزیہ‘ کرنے کی غرض سے خفیہ معلومات کا استعمال کیا اور ایک دوسری غیر ملکی انٹیلیجنس سروس کے ساتھ رابطے میں رہے۔ تاہم تفتیش کاروں نے تاحال یہ ظاہر نہیں کیا کہ اس میں کون سی غیر ملکی طاقتیں ملوث ہیں۔

پولیس نے بی این ڈی کے ایک سابق اہلکار مینفریڈ ڈی کو بھی گرفتار کیا ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے پیسوں کے عوض ہیننگ کو تقریباً 2 ہزار خفیہ دستاویزات فراہم کیں۔ مینفریڈ ڈی پر بھی غداری کی کوشش اور جاسوسی میں معاونت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اگست ہیننگ کو منسٹر کے قریب نورڈوالڈے میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا، جبکہ مینفریڈ ڈی کو باویریا سے حراست میں لیا گیا۔ مینفریڈ ڈی کو منگل جبکہ اگست ہیننگ کو بدھ کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب جرمن انٹیلیجنس ایجنسی کو اس طرح کے سنگین تنازع کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ اس سے قبل 2023 میں بھی روس کو ریاستی راز فراہم کرنے کے الزام میں ایک اعلیٰ انٹیلیجنس عہدے دار پر غداری کا مقدمہ چلایا گیا تھا۔