دو زہریلے انجیکشنز بھی جان نہ لے سکے، سزائے موت کی قیدی کرسٹا پائیک ہوش میں آگئیں

30 ستمبر کو کرسٹا پائیک کو زہریلے انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی دو کوششیں کی گئیں، تاہم دونوں مرتبہ عملدرآمد کامیاب نہ ہوسکا۔

October 7, 2026 · بام دنیا
دو زہریلے انجیکشنز بھی جان نہ لے سکے، سزائے موت کی قیدی کرسٹا پائیک ہوش میں آگئیں

دو زہریلے انجیکشنز بھی جان نہ لے سکے، سزائے موت کی قیدی کرسٹا پائیک ہوش میں آگئیں

امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت پر عملدرآمد کی ناکام کوشش کے بعد قیدی کرسٹا پائیک ہوش میں آگئی ہیں اور بات چیت بھی کر رہی ہیں۔

50 سالہ کرسٹا پائیک کے وکلا کے مطابق وہ اب بھی انتہائی نگہداشت کے شعبے میں زیر علاج ہیں، جہاں انہیں ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں رکھا گیا ہے۔ ان کی طویل مدتی طبی صورتحال کے بارے میں فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔

کرسٹا پائیک کو 1995 میں 19 سالہ کولین سلیمر کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ استغاثہ کے مطابق انہوں نے اپنے اس وقت کے بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر مقتولہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا تھا۔

30 ستمبر کو کرسٹا پائیک کو زہریلے انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی دو کوششیں کی گئیں، تاہم دونوں مرتبہ عملدرآمد کامیاب نہ ہوسکا۔ بعد ازاں انہیں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں طبی عملے نے ان کے جسم میں داخل کیے گئے کیمیائی مادے کو خارج کیا۔

کئی روز تک بے ہوش رہنے کے بعد اب کرسٹا پائیک کے ہوش میں آنے اور گفتگو کرنے کی خبر سامنے آئی ہے۔ ماہرین کے مطابق زہریلے مادے کے جسم میں داخل ہونے کے باوجود ان کا زندہ رہنا انتہائی غیر معمولی واقعہ ہے۔

جرائم اور سزائے موت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی سزائے موت پر عملدرآمد کی بعض کوششیں ناکام ہوئی ہیں، تاہم ایسے واقعات میں قیدیوں کی رگ میں مطلوبہ زہریلا مادہ کامیابی سے داخل نہیں کیا جاسکا تھا۔ کرسٹا پائیک کا معاملہ اس لحاظ سے مختلف بتایا جارہا ہے کہ ان کے جسم میں زہریلا مادہ داخل ہونے کے باوجود وہ زندہ بچ گئیں۔

کرسٹا پائیک کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کی مکمل صحتیابی میں طویل وقت لگ سکتا ہے، جبکہ موجودہ صورتحال کے باعث ان کی آئندہ طبی حالت کے بارے میں حتمی اندازہ لگانا ممکن نہیں۔

کرسٹا پائیک کو 1996 میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ جرم کے وقت ان کی عمر 18 برس تھی۔ ان کے ساتھ جرم میں شریک بوائے فرینڈ کو عمر قید کی سزا دی گئی تھی اور وہ اب بھی جیل میں ہے۔

کرسٹا پائیک نے ماضی میں ایک صحافی سے گفتگو کے دوران اپنے جرم پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے کیے پر پشیمانی ہے، تاہم وہ سمجھتی ہیں کہ کوئی بھی معافی اس نقصان کا ازالہ نہیں کرسکتی جو مقتولہ اور اس کے خاندان کو پہنچا۔

ماہرین کے مطابق حالیہ ناکام عملدرآمد نے امریکی نظامِ سزائے موت کے طریقہ کار، اس کی طبی پیچیدگیوں اور متاثرہ خاندان کے لیے انصاف کے تصور سے متعلق کئی اہم سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔