ایران پر ممکنہ حملوں کی تیاری، امریکی فوج کو الرٹ رہنے کا حکم

پینٹاگون نے چند روز قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کو ایران میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیاری مکمل رکھنے کی ہدایت کی تھی۔

October 8, 2026 · بام دنیا
ایران پر ممکنہ حملوں کی تیاری، امریکی فوج کو الرٹ رہنے کا حکم

ایران پر ممکنہ حملوں کی تیاری، امریکی فوج کو الرٹ رہنے کا حکم

ایران کے خلاف ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے پیش نظر امریکی فوج کو تیاری مکمل رکھنے کی ہدایت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مبینہ طور پر حملے کے ممکنہ وقت پر غور کر رہے ہیں۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے بتایا ہے کہ پینٹاگون نے چند روز قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کو ایران میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیاری مکمل رکھنے کی ہدایت کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق فوج کو دی گئی ہدایت میں کارروائی شروع کرنے کے لیے کوئی مخصوص تاریخ مقرر نہیں کی گئی اور صدر ٹرمپ نے بھی تاحال حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ تاہم امریکی اور اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ کارروائی امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل کی جا سکتی ہے، جبکہ اسرائیلی انتخابات سے پہلے کارروائی کا امکان بھی زیر غور ہے۔

ذرائع کے مطابق اگر بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو ایران کے توانائی کے شعبے، بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کو ممکنہ طور پر نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں عالمی منڈیوں، بالخصوص تیل کی قیمتوں پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے، جس کے باعث امریکی وسط مدتی انتخابات بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن ایران کے خلاف اپنی پوزیشن کو مضبوط سمجھتا ہے اور آئندہ پیش رفت کے لیے مختلف آپشنز پر غور جاری ہے۔

دوسری جانب دی اٹلانٹک نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران کے خلاف حملے کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی قومی سلامتی کی ٹیم نے کیمپ ڈیوڈ میں طویل اجلاس کیا، جس میں ایران سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تاحال کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی۔ قطری ثالث بھی ایران کے جواب کے منتظر ہیں، جبکہ امریکی تجویز میں ایران سے جوہری معاملے پر مزید رعایتیں دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان بھی حالیہ دنوں میں دوبارہ رابطہ ہوا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع ہوئی تو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مشترکہ کارروائی کا امکان موجود ہے۔

مزید 5 سرخیاں: