ایران میں پھانسی سے چند گھنٹے پہلے قیدی نے فون پر شادی کرلی
جیل حکام نے دونوں کو آمنے سامنے ملاقات کی اجازت نہیں دی، جس کے باعث شادی کی تقریب فون پر منعقد کی گئی۔
ایران میں پھانسی سے چند گھنٹے پہلے قیدی نے فون پر شادی کرلی
تہران: ایران میں مظاہروں کے دوران گرفتار کیے گئے علی رضا سیباہی نے پھانسی دیے جانے سے چند گھنٹے قبل اپنی قید میں موجود ساتھی مہشاد کاشانی سے ٹیلی فون پر شادی کرلی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق جیل حکام نے دونوں کو آمنے سامنے ملاقات کی اجازت نہیں دی، جس کے باعث شادی کی تقریب فون پر منعقد کی گئی۔
رپورٹس کے مطابق سیباہی کو 5 اکتوبر کو اصفہان کی مرکزی جیل میں علی رضا رئیسی نامی ایک اور شخص کے ساتھ پھانسی دی گئی۔ دونوں کو 8 جنوری کو اصفہان کے علی خانی چوک میں ہونے والے مظاہروں کے تناظر میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ایرانی عدلیہ سے وابستہ خبر رساں ادارے میزان کے مطابق دونوں افراد کو ایک مسلح گروہ سے تعلق رکھنے اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق ان مظاہروں کے دوران چار پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
ناروے میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ایران ہیومن رائٹس کے مطابق ان دونوں افراد کی پھانسی کے بعد جنوری کے مظاہروں سے متعلق مقدمات میں سزائے موت پانے والوں کی تعداد 34 ہوگئی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مظاہروں کے خلاف سخت کارروائی کی گئی، جس کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔ ان دعوؤں اور ہلاکتوں کی مجموعی تعداد سے متعلق مختلف رپورٹس میں فرق پایا جاتا ہے۔
علی رضا سیباہی کو 10 جنوری کو ان کی والدہ کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ان کی والدہ اب بھی حراست میں ہیں اور پانچ سال قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔
امریکا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم عبدالرحمٰن برومند سینٹر نے سیباہی کے مقدمے میں قانونی ضابطوں کی خلاف ورزیوں پر تشویش ظاہر کی۔ تنظیم کے مطابق دفاع کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل اور ایسی ویڈیو فوٹیج کو نظرانداز کیا گیا جن کے بارے میں دعویٰ تھا کہ وہ واقعے کے وقت سیباہی کی جائے وقوعہ پر عدم موجودگی ظاہر کرتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس مقدمے میں سیباہی سمیت 12 افراد کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔
سیباہی کی اپیل اصفہان کی انقلابی عدالت نے مسترد کردی تھی، جس کے بعد ان کے اہل خانہ کو آخری ملاقات کے لیے بلایا گیا۔ اسی دوران ان کے وکیل نے دوسری جیل میں قید مہشاد کاشانی سے ٹیلی فون پر شادی کی تقریب منعقد کرنے کا انتظام کیا۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے جاری آڈیو ریکارڈنگ کے مطابق شادی کے لیے دونوں خاندانوں کے والدین سے اجازت لی گئی۔ تقریب میں حق مہر کے طور پر قرآن مجید کا ایک نسخہ، شکر کا ایک ٹکڑا اور سرخ گلاب رکھنے کی بات کی گئی، جس پر والدین نے رضامندی ظاہر کی۔
عبدالرحمٰن برومند سینٹر کی شریک بانی رویا برومند کے مطابق وکلا کو امید تھی کہ شادی کی وجہ سے پھانسی پر عمل درآمد مؤخر ہوسکتا ہے، تاہم حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ منگیتر کا قیدی کے ساتھ ایسا قانونی رشتہ نہیں تھا جس کی بنیاد پر دونوں کو جیل میں اکٹھے ہونے کی اجازت دی جاسکے۔ یوں شادی کی قانونی کارروائی فون پر مکمل ہوئی، لیکن جوڑا ایک دوسرے کے سامنے موجود نہیں ہوسکا۔
رپورٹس کے مطابق سیباہی کی پھانسی کے بعد بھی ان کے خاندان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کی میت اصفہان میں اہل خانہ کے حوالے کرنے کے بجائے تقریباً 200 کلومیٹر دور شہر کاشان منتقل کردی گئی۔