ملک بھر میں پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کو گرفتاریا نظر بند کرنے کی تیاریاں شروع: ذرائع
اہم سیاسی صورتحال، وفاقی حکومت کا سخت ایکشن، اہم فیصلے متوقع ہوں گے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور دیگر رہنماؤں کی حامیوں کے ہمراہ ایک تقریب کے دوران کی عکسبندی۔
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ملک بھر میں پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کو گرفتار یا نظر بند کرنے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف سخت ایکشن لینے کی تیاری پکڑ لی ہے اور سہیل آفریدی کے طرز عمل میں تبدیلی نہ آنے پر نئی حکمت عملی بھی تیار کر لی گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کل اس حکمت عملی پر اپنے قریبی رفقاء سے اہم مشاورتی اجلاس کریں گے جس کے بعد اہم فیصلے متوقع ہیں۔
ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کی صورت میں سخت ترین اقدامات کیے جائیں گے۔ صوبے میں پولیس اور بیوروکریسی کو متحرک کرنے کی جامع حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے، جبکہ احتجاج کے لیے باہر نکلنے والے افراد کے خلاف گرفتاریوں سمیت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ احتجاج کو محدود کرنے کے لیے صوبائی انتظامیہ کو خصوصی ہدایات جاری کیے جانے کا بھی امکان ہے۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز ایک اہم مشاورتی اجلاس کے بعد جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ اس گفتگو کے دوران مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے حکومتی جماعتوں کو سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ملاقات اور ٹیلیفونک رابطے میں مذاکراتی ڈیڈلاک اور پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان نے یقین دہانی کرائی کہ وہ معاملات کو افہام و تفہیم کے ساتھ حل کرانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی بصیرت اور احتجاجی تحریک سے دور رہنے کے فیصلے کی تعریف کی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی مخلصانہ کوشش کی ہے، لیکن خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف اقدامات میں تعاون سے انکار نے مذاکرات کی ناکامی میں اہم کردار ادا کیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور اس معاملے میں غفلت ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے تجویز دی کہ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین معاملات کی بہتری کے لیے مذاکرات کو ایک اور موقع دیا جائے۔ اس پر وزیراعظم نے واضح کیا کہ حکومت اب بھی مذاکرات کی حامی ہے، تاہم اسلام آباد پر چڑھائی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پی ٹی آئی اپنا لانگ مارچ ختم کرے اور سنجیدہ مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔