ملتان کی نجی یونیورسٹی کے باہر فائرنگ، قانون کا طالبعلم جاں بحق اور 4 زخمی
تلخ کلامی کا تنازع، فائرنگ سے طالبعلم جاں بحق، پولیس نے کارروائی شروع کردی
ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا بیرونی منظر جہاں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔
ملتان کی نجی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے بیرونی گیٹ پر طلبا کے پرانے تنازع پر ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں قانون کا طالبعلم جاں بحق جبکہ 4 افراد شدید زخمی ہوگئے۔ ایک ہفتے کے دوران نجی تعلیمی اداروں میں طالبعلم کی ہلاکت کا یہ دوسرا دلخراش واقعہ ہے جس پر شہر بھر میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
پولیس رپورٹ اور عینی شاہدین کے مطابق چند روز قبل یونیورسٹی کے اندر طلبا کے دو گروپوں میں تلخ کلامی ہوئی تھی، تاہم اساتذہ اور یونیورسٹی انتظامیہ کی مداخلت پر دونوں فریقین کے درمیان صلح کروا دی گئی تھی۔ ابتدائی پولیس رپورٹ کے مطابق رینجش برقرار رکھنے پر جمعہ کی دوپہر کوٹ ادو کے رہائشی رانا گروپ کے افراد نے یونیورسٹی کے گیٹ کے باہر گھات لگا کر حملہ کر دیا۔
دستاویز کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں شعبہ قانون کا 25 سالہ طالبعلم انس رمضان موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ علی اکبر کو پیٹ میں اور وارث کو سر میں گولیاں لگیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر مقامی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں سے انہیں نشتر اسپتال ریفر کر دیا گیا۔ اس دوران فائرنگ کی زد میں آنے والے دیگر طلبا کو بھی ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔
واقعے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ افسران موقع پر پہنچ گئے جبکہ تھانہ مظفر آباد میں مقدمہ درج کرنے اور ضابطے کی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا۔ واقعے کے خلاف طلبا اور علاقہ مکینوں کی طرف سے شدید احتجاج بھی ریکارڈ کروایا گیا ہے۔ انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔