امریکی سفارتکاری کا برا وقت، اٹلی میں امریکی سفیر ایک لاکھ مانگتی رہی
سفارتی اسکینڈل، کریڈٹ کارڈ کا بل ادا کرنے کا مطالبہ، ڈیموکریٹس کی تحقیقات کی مانگ۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور تقریب میں موجود کمبرلی گل فوائل کی فائل فوٹو
امریکی سفارتکاری کو ایک نئے اور سنگین اسکینڈل کا سامنا کرنا پڑا ہے جہاں یونان میں امریکی سفیر اور ٹرمپ خاندان کی قریبی اتحادی کمبرلی گل فوائل پر مالی بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مالی معاون اور سابق کانگریسی امیدوار ایرک ڈیٹرز نے انکشاف کیا ہے کہ کمبرلی گل فوائل نے اپنی سفارتی نامزدگی کی منظوری سے قبل ان سے رابطہ کیا تھا اور بدلے میں فائدے کی ڈیل یعنی ‘کویڈ پرو کو’ کے تحت اپنے امریکن ایکسپریس کریڈٹ کارڈ کا 100,000 ڈالر کا بل ادا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
دستاویزات اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، کمبرلی گل فوائل نے اس مبینہ ادائیگی کے عوض ڈونر کو ٹرمپ انتظامیہ اور حکومت کے اعلیٰ حکام تک خصوصی رسائی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ ایرک ڈیٹرز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کمبرلی گل فوائل کو “فرسٹ کلاس گرِفٹر” قرار دیا اور دوٹوک الفاظ میں تصدیق کی کہ انہوں نے یہ غیر قانونی ادائیگی کرنے سے یکسر انکار کر دیا تھا۔
دوسری جانب، کمبرلی گل فوائل کے قانونی ترجمان نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار مسترد کرتے ہوئے سامنے آنے والے ٹیکسٹ میسجز کی صداقت کو چیلنج کیا ہے۔ ان کے موقف کے مطابق، مذکورہ رقم کسی این او سی یا تقریبات میں شرکت کے واجبات کی مد میں تھی۔ تاہم ڈونر ایرک ڈیٹرز نے اس دعویٰ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کسی بھی قسم کے واجبات کے وجود سے انکار کیا ہے۔
اس معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد امریکی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنماؤں نے گہرے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایوانِ نمائندگان اور سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹیوں کے سینئر ڈیموکریٹ اراکین نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے مطالبہ کیا ہے کہ کمبرلی گل فوائل کے خلاف فوری اور شفاف تحقیقات کا آغاز کیا جائے۔ واضح رہے کہ کمبرلی گل فوائل سابق صدر کے بڑے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کی منگیتر بھی رہ چکی ہیں، اور ان پر یونانی لابی سمیت متعدد کاروباری شخصیات کو غیر قانونی فائدے پہنچانے کے الزامات بھی عائد کیے جا چکے ہیں۔