ملکی سیاسی بحران کا حل، وزیراعظم شہباز شریف کا مولانا فضل الرحمان سے اہم ٹیلیفونک رابطہ
سیاسی کشمکش، گورنر راج نہ لگانے کی یقین دہانی، مذاکرات کی بحالی کی کوششیں شروع
وزیراعظم شہباز شریف اور جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان۔
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور خیبرپختونخوا کے امور پر پیش رفت کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ رابطہ وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اہم مشاورتی اجلاس کے بعد عمل میں آیا، جس میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکراتی ڈیڈلاک پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت نے مولانا فضل الرحمان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ 2 روز تک خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ نہیں کیا جائے گا۔ جے یو آئی ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کو مشورہ دیا تھا کہ صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ سے سیاسی نقصان ہو سکتا ہے، لہٰذا اس اقدام سے گریز کیا جائے۔ حکومتی یقین دہانی کے بعد مولانا فضل الرحمان نے معاملے پر مزید مشاورت اور اپنا ثالثی کردار ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ گفتگو کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت نے ہمیشہ معاملات کو سیاسی انداز میں حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے، لیکن اسلام آباد پر چڑھائی کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی۔ وزیراعظم نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کی ضد ختم کر کے مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے کیونکہ لانگ مارچ اور مذاکرات کا سلسلہ بیک وقت نہیں چل سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملکی معیشت کو انتہائی مشکل حالات سے نکالا گیا ہے اور حکومت سیاسی، معاشی اور داخلی استحکام چاہتی ہے۔
دوسری جانب جے یو آئی کی مرکزی کور کمیٹی کے اجلاس میں بھی موجودہ سیاسی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ملک اس وقت کسی قسم کی سیاسی کشمکش کا متحمل نہیں ہو سکتا، اس لیے تمام تنازعات افہام و تفہیم کے ساتھ حل کیے جائیں۔ مولانا فضل الرحمان نے پارٹی قیادت کو اسلام آباد میں ہی رہنے کی ہدایت جاری کی ہے، جن کی ہدایت پر سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اپنا دورہ چین بھی منسوخ کر دیا ہے۔