عالمی سرکاری قرضہ جی ڈی پی سے تجاوز کرنے کا خدشہ، آئی ایم ایف کا انتباہ

معاشی چیلنجز بڑھ گئے، وزیر خزانہ بنکاک روانہ، اہم ملاقاتیں ہوں گی۔

October 11, 2026 · اہم خبریں
عالمی معاشی چیلنجز اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں سے متعلق علامتی تصویر

عالمی معاشی چیلنجز اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں سے متعلق علامتی تصویر

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے خبردار کیا ہے کہ عالمی معیشت کو مصنوعی ذہانت کے تیزی سے فروغ، توانائی کی بلند قیمتوں اور ریکارڈ عوامی قرضوں کے 3 بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ سنگاپور میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی سرکاری قرضہ جلد مجموعی عالمی پیداوار یعنی جی ڈی پی کے 100 فیصد سے تجاوز کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تیل کی قیمتیں تقریباً 100 ڈالر فی بیرل رہنے، ایل این جی کی ترسیل میں رکاوٹوں اور توانائی و خوراک کی مہنگائی سے عالمی اقتصادی ترقی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

آئی ایم ایف کی سربراہ کے مطابق بلند شرح سود اور قرضوں پر سود کی ادائیگی کے بڑھते اخراجات حکومتوں کے مالی وسائل پر دباؤ ڈال رہے ہیں، اس لیے مالیاتی خسارے کم کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط بنانے کے لیے فوری پالیسی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومتیں غیر ضروری ضابطوں کا خاتمہ، ٹیکس نظام میں بہتری اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ذریعے اقتصادی ترقی کو یقینی بنائیں۔

دوسری جانب وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کے لیے بنکاک روانہ ہو گئے ہیں۔ وزارتِ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق دورے کے دوران وزیر خزانہ کی عالمی مالیاتی اداروں، بین الاقوامی سرمایہ کاروں، کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں اور مختلف ممالک کے حکام کے ساتھ 60 سے زائد اعلیٰ سطحی ملاقاتیں شیڈول ہیں۔

وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ اس دورے کا بنیادی مقصد عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ روابط مضبوط بنانا، پاکستان کے معاشی منظرنامے اور ساختی اصلاحات پر پیش رفت سے آگاہ کرنا اور ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے نئے مواقع تلاش کرنا ہے۔ محمد اورنگزیب دورے کے دوران سعودی عرب، چین، ترکیہ، ایران، برطانیہ اور تھائی لینڈ کے ہم منصبوں سے بھی ملاقاتیں کریں گے جن میں دوطرفہ اقتصادی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔