لائبہ خودکشی کیس، مرکزی ملزم نعمان دو ساتھی خواتین سمیت گرفتار
اہم پیش رفت، مرکزی ملزم گرفتار، مقدمہ درج کر لیا گیا
پولیس اور ایف آئی اے کی جانب سے لائبہ خودکشی کیس کے مرکزی ملزم کی گرفتاری کے بعد تفتیش کا عمل جاری ہے۔
اسلام آباد میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کی مبینہ خودکشی اور لاکھوں روپے کے فراڈ کے معاملے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے مرکزی ملزم نعمان کو اس کی دو ساتھی خواتین سمیت گرفتار کر لیا ہے۔ واقعہ کا مقدمہ تھانہ رمنا میں درج کیا گیا ہے جس میں ملزمان کے خلاف سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔
درج مقدمے اور دستیاب دستاویزات کے مطابق، ملزم نعمان اور اس کی ساتھی فاطمہ سرور نے ملی بھگت سے متاثرہ طالبہ لائبہ اعجاز سے امریکا کا ویزا اور اسکالرشپ دلوانے کے بہانے 93 لاکھ روپے بٹورے۔ ایف آئی آر کے متن میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملزمان نے جعلی اسکالرشپ اور یونیورسٹی ایڈمیشن آفر لیٹرز کے ذریعے معصوم خاندان کو دھوکا دیا۔ رقم کی ادائیگی کے حوالے سے دستاویزات کے مطابق 29 لاکھ روپے لائبہ اعجاز کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے منتقل کیے گئے جبکہ باقی رقم نقد ادا کی گئی۔ شدید ذہنی اذیت اور مالی دھوکا دہی کے نتیجے میں نوجوان طالبہ نے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔
تحقیقاتی ذرائع نے بتایا کہ ملزم نعمان نے خود کو مبینہ طور پر سپریم کورٹ کا اکاؤنٹنٹ ظاہر کر رکھا تھا اور وہ اسلام آباد کے سیکٹر ایچ-13 میں کرائے کا کمرہ لے کر روپوش تھا۔ ملزم کے موبائل فون سے آن لائن فراڈ اور خواتین کو بلیک میل کرنے کے متعدد شواہد بھی برآمد ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم نعمان ماضی میں کوئٹہ میں ایک سرکاری ادارے میں ملازم رہ چکا ہے جسے کرپشن کے الزامات پر نوکری سے نکالا گیا تھا، جبکہ اس نے بعد میں اسلام آباد کی ایک پرائیویٹ کمپنی میں بھی ملازمت کی۔
دوسری جانب ڈائریکٹر ایف آئی اے شہزاد بخاری نے بتایا کہ اس مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان کے نام سٹاپ لسٹ میں شامل کر لیے گئے ہیں اور ان کا مکمل ڈیٹا حاصل کر کے قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ متاثرہ خاندان کے مطابق موٹر سائیکل پر دودھ فروخت کرنے والے غریب والد نے بیٹی کو اعلیٰ تعلیم کے لیے باہر بھیجنے کی خاطر اپنا پلاٹ بیچ کر 21 لاکھ روپے نقد دیے تھے جبکہ والدہ کے زیورات بھی بینک میں گروی رکھوا دیے گئے تھے۔ طالبہ نے خودکشی سے قبل اپنے ماموں کو آخری پیغام میں وصیت کی تھی کہ اس کے ساتھ ہونے والے فراڈ کا اس کے والد کو نہ بتایا جائے کیونکہ وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکیں گے۔