جبوتی کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 139 افراد ہلاک
خوفناک سمندری حادثہ، 15 بچوں سمیت 139 افراد جاں بحق، سرچ آپریشن جاری
جبوتی کے ساحل کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کے حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
افریقی ملک جبوتی کے ساحلی علاقے اوبوک کے قریب تارکین وطن کی ایک اور کشتی سمندر میں الٹنے کے نتیجے میں 15 بچوں اور خواتین سمیت 139 افراد ہلاک ہوگئے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق یہ دلخراش حادثہ 8 اور 9 اکتوبر کی درمیانی شب پیش آیا۔
عالمی ادارہ برائے مہاجرین (آئی او ایم) اور دیگر ذرائع کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی کشتی میں مجموعی طور پر 300 سے 350 کے قریب افراد سوار تھے جو بہتر مستقبل اور روزگار کی تلاش میں جبوتی سے یمن کا خطرناک سمندری سفر طے کر رہے تھے۔ حادثے کے بعد امدادی کارروائیوں کا آغاز کرتے ہوئے 60 سے زائد مسافروں کو زندہ بچا لیا گیا ہے جن کا تعلق زیادہ تر ایتھوپیا سے ہے۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اب تک برآمد ہونے والی لاشوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ریسکیو کی گئی لاشوں میں 42 خواتین اور 15 بچے بھی شامل ہیں۔ آئی او ایم کے مشن چیف الیگزینڈر کوئساک نے اس سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ _یہ انسانی جانوں کا ایک انتہائی افسوسناک نقصان ہے_۔
رپورٹس کے مطابق حادثے کے بعد تاحال 80 سے زائد افراد لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے سمندر میں ریسکیو اور سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہر سال قرن افریقا کے مختلف ممالک سے ہزاروں افراد بہتر روزگار کی آس میں غیر قانونی اور خطرناک سمندری راستوں سے خلیجی ممالک کا رخ کرتے ہیں، جو اکثر ایسے سنگین جانی نقصانات پر منتج ہوتا ہے۔