خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نفاذ کے بعد انٹرنیٹ سروسز شدید متاثر
نیٹ بلاکس کی تصدیق، انٹرنیٹ کنکٹوٹی نصف رہ گئی، عالمی تنظیم
نیٹ بلاکس کا جاری کردہ گراف جو خیبرپختونخوا میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی میں نمایاں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
خیبرپختونخوا کے مختلف حصوں میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی میں بڑی خرابی اور تعطل کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ نیٹ ورک مانیٹرنگ ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق، صوبے میں انٹرنیٹ سروسز کو شدید نقصان پہنچا ہے اور نیٹ ورک ڈیٹا نے اس تعطل کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔
نیٹ بلاکس کی جانب سے جاری کردہ جاری اعداد و شمار اور گراف کے مطابق، حالیہ دنوں میں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کی سطح میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے جو کہ گر کر 53 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں سیاسی کشیدگی عروج پر ہے۔
⚠️ Confirmed: Network data show a major disruption to internet connectivity in parts of Khyber Pakhtunkhwa, #Pakistan, as President Zardari imposes emergency rule, suspending the provincial government led by jailed former PM Imran Khan's PTI amid protests demanding his release pic.twitter.com/iygfkKeLTx
— NetBlocks (@netblocks) October 11, 2026
صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ اور قید سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی زیر قیادت صوبائی حکومت کو معطل کرنے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس صورتحال کے بعد قیدی رہنما کی رہائی کے لیے ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر مواصلاتی رابطوں اور انٹرنیٹ سروسز کو متاثر کیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش سے عام شہریوں، کاروباری طبقے اور ذرائع ابلاغ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔