سعودی عرب میں اہم بین الاقوامی تقریبات منسوخ، حوثیوں کا طیارہ گرانے کا دعویٰ

ریاض کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہفتے تک بند رکھنے کا اعلان، حوثیوں کا نیا حملہ، سعودی عرب کی شدید بمباری

October 15, 2026 · بام دنیا
یمن پر سعودی حملوں کے مناظر

یمن پر سعودی حملوں کے مناظر

یمن کے حوثیوں کے سعودی عرب پر میزائل حملوں کے دعووں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ملک میں اہم بین الاقوامی تقریبات منسوخ یا ملتوی کی جا رہی ہیں، جبکہ بعض تقریبات کو آن لائن منتقل کیا جا رہا ہے۔ ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو ہفتے تک بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ حوثیوں نے سعودی فضائیہ کا ایک جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

حوثی گروپ انصار اللہ کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے جمعرات کی نصف شب کے بعد دعویٰ کیا کہ گروپ نے یمن کے صوبہ صعدہ کی فضائی حدود میں سعودی فضائیہ کے ٹائفون جنگی طیارے کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق طیارے کو براہ راست نشانہ بنایا گیا اور امکان ہے کہ وہ تباہ ہو گیا ہے۔ تاہم، اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ایک بار پھر بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا۔ حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کہا کہ میزائل نے اپنے ہدف کو درست طور پر نشانہ بنایا۔

یہ دعویٰ سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی جانب سے ایک میزائل کو فضا میں تباہ کرنے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ سعودی سول ڈیفنس کے مطابق بدھ کو میزائل کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے تباہ کیے جانے کے بعد اس کا ملبہ ریاض میں گرنے سے ایک مقامی شہری زخمی ہوا۔ حکام کے مطابق واقعے میں ایک مکان اور گاڑی کو بھی معمولی نقصان پہنچا۔

سعودی حکام اس سے قبل بھی ریاض کے اوپر دو میزائل تباہ کیے جانے کی اطلاع دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق ان میزائلوں کے ملبے سے دو خواتین، ایک مرد اور ایک بچہ زخمی ہوئے، جبکہ دارالحکومت میں 15 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا۔

حوثیوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے رأس العارہ اور المضاربہ کے علاقوں میں سعودی افواج کے اجتماعات پر تین بیلسٹک میزائل داغے، جن سے جانی نقصان ہوا اور متعدد فوجی گاڑیاں متاثر ہوئیں۔ ان دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

بین الاقوامی تقریبات متاثر

سعودی عرب میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات کھیلوں اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔ سعودی پرو لیگ میں کرسٹیانو رونالڈو کی ٹیم النصر اور الاہلی کے درمیان جمعرات کو ہونے والا میچ ملتوی کر دیا گیا ہے۔

آئندہ ہفتے ہونے والا سکس کنگز ٹینس ٹورنامنٹ بھی دسمبر تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔ اس ایونٹ میں نوواک جوکووچ اور کارلوس الکاراز سمیت نامور کھلاڑیوں کی شرکت متوقع تھی۔

سعودی عرب کی سالانہ سرمایہ کاری کانفرنس، جسے ’صحرائی ڈیووس‘ بھی کہا جاتا ہے، تقریباً دو ہفتے بعد ہائبرڈ انداز میں منعقد کی جائے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ شرکا کو بالمشافہ اور آن لائن شرکت کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شرکا کی آمد کے لیے متبادل زمینی اور بحری راستوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

ادھر ورلڈ پیٹرولیم کانگریس بھی تیل کی صنعت کے اعلیٰ عہدیداروں کی عدم شرکت کے باعث متاثر ہوئی ہے۔ یہ کانگریس جمعرات کو اختتام پذیر ہو رہی ہے۔

سعودی عرب کے یمن پر حملے

حوثیوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے صنعا پر سعودی حملوں کی اطلاعات بھی دی ہیں۔ حوثی گروپ کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی جنگی طیاروں نے صنعا، تعز، لحج، مأرب، عمران اور جزیرہ میون میں 42 فضائی اور میزائل حملے کیے، جن میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ گروپ کے مطابق حالیہ کشیدگی کے آغاز سے اب تک سعودی عرب کی جانب سے 2,323 حملے کیے جا چکے ہیں۔

حوثیوں نے خبردار کیا ہے کہ جزیرہ میون پر حملے بحری جہاز رانی کے راستوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اور اس کے ممکنہ نتائج کی ذمہ داری سعودی عرب پر عائد ہوگی۔

دوسری جانب بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ’آپریشن فجر یمن‘ کے آغاز سے اب تک حوثیوں کے خلاف 2,309 کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔ ان کے مطابق تقریباً 1,250 حوثی جنگجوؤں کو میدان جنگ سے ہٹایا گیا، جبکہ 460 سے زائد فوجی گاڑیاں اور عسکری سازوسامان تباہ یا ناکارہ بنایا گیا۔ ان اعدادوشمار کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔