فرانس میں بڑے پیمانے پر مظاہرے، ساڑھے پانچ لاکھ افراد سڑکوں پر نکل آئے، 400 گرفتار

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 60 اہلکار زخمی ہوئے، جن میں سے دو کو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔

October 18, 2026 · بام دنیا
فرانس میں بڑے پیمانے پر مظاہرے، ساڑھے پانچ لاکھ افراد سڑکوں پر نکل آئے، 400 گرفتار

فرانس میں بڑے پیمانے پر مظاہرے، ساڑھے پانچ لاکھ افراد سڑکوں پر نکل آئے، 400 گرفتار

فرانس میں ملک گیر مظاہروں کے دوران لوٹ مار اور ہنگامہ آرائی کے واقعات پیش آئے، جبکہ حکام نے 400 افراد کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ مظاہروں میں مجموعی طور پر ساڑھے پانچ لاکھ افراد نے شرکت کی، جن میں ایک لاکھ 10 ہزار افراد پیرس میں موجود تھے۔

فرانس کے وزیر داخلہ لوراں نونیز کے مطابق مظاہروں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 60 اہلکار زخمی ہوئے، جن میں سے دو کو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔

فرانسیسی وزیر داخلہ نے تشدد کے واقعات کا ذمہ دار انتہا پسند بائیں بازو کے عناصر کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنانے کی کوششیں کی گئیں۔ ان کے مطابق پیرس، روان، نانت، تولوز اور مارسی سمیت مختلف شہروں میں لوٹ مار اور اس کی کوششوں کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

دوسری جانب فرانسیسی صدر نے مظاہروں کے دوران تشدد اور توڑ پھوڑ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی انتظامیہ کے دفاتر، کاروباری مراکز اور بلدیاتی عمارتوں پر حملوں یا لوٹ مار میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔

حکام کے مطابق حراست میں لیے گئے بیشتر افراد بالغ ہیں اور ان کا طلبہ تحریک سے کوئی تعلق نہیں بتایا گیا۔