ڈھاکہ میں بین الاقوامی تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر، پاکستان سمیت 15 ممالک کے ماہرین کی شرکت

چوتھے صنعتی انقلاب اور مصنوعی ذہانت (AI) کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعلیمی نظام کو اخلاقی اقدار کے ساتھ مربوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، عالمی ماہرینِ تعلیم کا اظہارِ خیال

October 19, 2026 · بام دنیا, قومی
کانفرنس کے دوران دنیا بھر سے آئے ماہرین کی جانب سے 7 کلیدی خطابات پیش کیے گئے

کانفرنس کے دوران دنیا بھر سے آئے ماہرین کی جانب سے 7 کلیدی خطابات پیش کیے گئے

ڈھاکہ / اسلام آباد: بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں منعقدہ تین روزہ تاریخی انٹرنیشنل کانفرنس آن نالج انٹیگریشن اینڈ ایجوکیشنل لیڈرشپ (ICKIEL-2026) کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی ہے۔ اس کانفرنس کا اہتمام احسان اللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (AUST)، بنگلہ دیش انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک تھاٹ (BIIT) اور یونیورسٹی سائنس اسلام ملائیشیا (USIM) نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔

تین روزہ کانفرنس میں پاکستان، بنگلہ دیش، امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، ملائیشیا اور ترکیہ سمیت 15 سے زائد ممالک کے وائس چانسلرز، نامور محققین اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔

احسان اللہ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ایم ایچ خان آڈیٹوریم میں ہونے والی اس بین الاقوامی تقریب کا مروجہ مقصد چوتھے صنعتی انقلاب (4IR)، مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی کے دور میں جدید تعلیمی اصلاحات کو اخلاقی و انسانی اقدار کے ساتھ مربوط کرنا تھا۔

کانفرنس کے دوران دنیا بھر سے آئے ماہرین کی جانب سے 7 کلیدی خطابات پیش کیے گئے جبکہ مختلف متوازی تعلیمی سیشنز میں تقریباً 100 تحقیقی مقالے پڑھے گئے۔ تعلیمی مباحثوں کے دوران ملائیشیا کے انٹیگریٹڈ ایجوکیشن ماڈل، ترکیہ کے معارف ماڈل اور انڈونیشیا کے مرڈیکا نصاب کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تاکہ ان کامیاب بین الاقوامی ماڈلز سے سیکھتے ہوئے مقامی تعلیمی نظام میں اصلاحات لائی جا سکیں۔

کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی سائنس اسلام ملائیشیا کے وائس چانسلر پروفیسر داتو ڈاکٹر شریف الدین بن محمد شعرانی کا کہنا تھا کہ خطے کی نوجوان آبادی کو عالمی سطح پر مسابقتی اور کارآمد بنانے کے لیے روزمرہ کی تعلیم میں جدید ٹیکنالوجی، اخلاقیات اور مصنوعی ذہانت (AI) کی تربیت کو فوری طور پر شامل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

اختتامی تقریب سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے وزیرِ تعلیم ڈاکٹر اے این ایم احسان الحق ملن نے واضح کیا کہ ایک مضبوط اور ترقی پسند قوم کی تعمیر کے لیے نئی نسل کو مادہ پرستی سے ہٹا کر بنیادی اخلاقی اقدار، دیانت داری اور حب الوطنی کی طرف راغب کرنا سب سے اہم چیلنج ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ اس بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر ایک اہم عالمی مفاہمتی یادداشت (MoU) پر بھی دستخط کیے گئے ہیں جس کے تحت مقامی تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیمی ڈھانچے کو بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں گے۔ کانفرنس کے اختتام پر شرکاء نے تعلیمی معیار کی بلندی اور اخلاقی اقدار کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔