صدر ٹرمپ کی درخواست پر روس نے 74 سالہ امریکی شہری اسٹیفن ہبارڈ کو رہا کردیا

امریکی صدر کی براہ راست درخواست پر رہائی،اسٹیفن ہبارڈ کو قیدیوں کےتبادلے کے بغیر رہا کیاگیا

October 21, 2026 · بام دنیا

امریکی ایلچی کی ملاقات کام کرگئی، روس نے یوکرینی قیدی کو رہا کردیا؛ (فوٹو: فائل)

روس نے یوکرین کی جانب سے لڑنے کے الزام میں قید 74 سالہ امریکی شہری اسٹیفن ہبارڈ کو رہا کردیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ہبارڈ وطن واپس آرہے ہیں اور ان کی رہائی کے لیے قیدیوں کے تبادلے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یہ پیش رفت امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان سینٹ پیٹرزبرگ میں ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئی۔

ملاقات کے دوران روسی صدر نے بتایا کہ اسٹیفن ہبارڈ کو پلکووو ہوائی اڈے پہنچا دیا گیا ہے، جس پر امریکی ایلچی نے ان کی رہائی پر پیوٹن کا شکریہ ادا کیا۔ اسٹیو وٹکوف نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے روس، امریکا اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر بھی زور دیا۔

ملاقات میں اوسلو میں ہونے والی امریکی اور یوکرینی بات چیت کے نتائج، ایران کی صورت حال، اقتصادی تعاون اور چین میں ممکنہ ملاقات کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن سے براہ راست اسٹیفن ہبارڈ کی رہائی کی درخواست کی تھی۔ امریکی محکمہ خارجہ اس سے قبل ہبارڈ کو غلط طور پر زیر حراست قرار دے چکا تھا۔

اطلاعات کے مطابق اسٹیفن ہبارڈ کی صحت بھی خراب ہے اور انہیں علاج کے لیے امریکی ریاست ٹیکساس منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔

روسی فوج نے اسٹیفن ہبارڈ کو 2022 میں یوکرین کے شہر ایزیوم میں روس کے خلاف لڑتے ہوئے حراست میں لیا تھا۔ انہیں 2024 میں سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ پانچویں سال میں داخل ہوچکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار اس جنگ کو ختم کرانے کے عزم کا اظہار کرچکے ہیں، جس کے لیے اہم ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔