اسرائیل 10 اکتوبر کو ایران پر بڑا حملہ کرنیوالا تھا، امریکہ نے روکا، برطانوی اخبار

بجلی گھروں سمیت اہم شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جانا تھا، ٹرمپ کو مڈ ٹرم کی فکر ہے، فنانشل ٹائمز

October 21, 2026 · بام دنیا
اسرائیل 10 اکتوبر کو ایران پر بڑا حملہ کرنیوالا تھا، امریکہ نے روکا، برطانوی اخبار

اسرائیل 10 اکتوبر کو ایران پر بڑا حملہ کرنیوالا تھا، امریکہ نے روکا، برطانوی اخبار

برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے رواں ماہ کے اوائل میں ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کی ہدایت کی تھی۔ معاملے سے باخبر 3 ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے 10 اکتوبر کے اختتامِ ہفتہ پر کئی روزہ بمباری مہم کی مکمل تیاری کر لی تھی۔ مجوزہ کارروائی کے دوران ایرانی جوہری تنصیبات، حکومتی اہداف اور بجلی گھروں سمیت اہم شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جانا تھا۔

رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ بالآخر منسوخ کر دیا گیا کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ تنازع دوبارہ شروع کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ اس کے باوجود امریکی اور اسرائیلی قیادت کی جانب سے ایران کو مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور مؤقف اپنایا گیا ہے کہ دونوں ممالک کو ایرانی حکومت کے خلاف اپنا ہدف مکمل کرنا چاہیے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ بمباری مہم کی شدت فروری میں شروع ہونے والی مشترکہ کارروائی سے بھی زیادہ ہونی تھی۔

اخبار کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا امریکا نے اس مجوزہ آپریشن میں براہِ راست حصہ لینا تھا یا نہیں، تاہم آنے والے ہفتوں میں واشنگٹن اور اسرائیل کی جانب سے حملے دوبارہ شروع کیے جانے کا قوی امکان موجود ہے۔ دریں اثنا، امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے پیر کے روز اسرائیل کا غیر اعلانیہ دورہ کیا جہاں انہوں نے عوودہ ایئر بیس پر اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اور اعلیٰ عسکری حکام سے ملاقات کی۔ دورے کے دوران اسرائیلی حکام نے ایران میں حملوں کے لیے اہداف کی ایک تازہ فہرست بھی پیش کی جو نئی انٹیلی جنس معلومات پر مبنی تھی۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی حمایت سے گریز کرتے ہوئے لاتعلق رہنے کا اعلان کیا ہے۔ میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف امریکی امیدواروں کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی توجہ اپنے ملک کے وسط مدتی انتخابات پر مرکوز ہے۔ ادھر اسرائیلی فوج نے ممکنہ سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر انتہائی ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے پارلیمانی انتخابات تک تمام فوجیوں کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔ اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال ضمیر کے مطابق یہ اقدام جمہوری عمل کو محفوظ اور مقررہ وقت پر یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔