آبنائے ہرمز میں 7 بحری جہاز تباہ کرنے کا ایرانی دعویٰ

امریکی فوج کی جانب سے مبینہ اشتعال انگیزی جاری رہی تو خطے میں امریکی اڈوں کے خلاف کارروائی کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔ ایرانی حکام

October 22, 2026 · بام دنیا
آبنائے ہرمز میں 7 بحری جہاز تباہ کرنے کا ایرانی دعویٰ

آبنائے ہرمز میں 7 بحری جہاز تباہ کرنے کا ایرانی دعویٰ

ایران: ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں 7 بحری جہازوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے مبینہ اشتعال انگیزی جاری رہی تو خطے میں امریکی اڈوں کے خلاف کارروائی کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی خلیج فارس میں تیل کی غیر قانونی ترسیل میں ملوث چار جہازوں کو نگرانی کے بعد بیک وقت نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق مزید تین جہاز آبنائے ہرمز کے مغربی حصے میں بارودی سرنگوں سے ٹکرائے، جس کے بعد ان میں آگ لگ گئی۔

رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور خلیج عمان میں بحری جہازوں پر حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان واقعات میں تیل بردار ٹینکرز، کنٹینر جہازوں اور دیگر تجارتی بحری جہازوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم ایرانی بحریہ کے سات جہاز تباہ کرنے کے دعوے کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات سے واضح نہیں۔

دوسری جانب ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے نائب برائے سیاسی امور بریگیڈیئر جنرل یداللہ جوانی نے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی ممکنہ حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

الْعالم ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے یداللہ جوانی کا کہنا تھا کہ ایران پر کسی بھی حملے کا جواب دیا جائے گا اور یہ ردعمل ماضی کے مقابلے میں زیادہ سخت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق جنگ کے آغاز میں ایران نے اپنی تمام فوجی صلاحیتیں استعمال نہیں کی تھیں۔

ایرانی عہدیدار نے امریکا کی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے یہ سمجھ کر اسٹریٹجک غلطی کی کہ ایرانی افواج کو چند روز میں شکست دی جا سکتی ہے، تاہم جنگ کے دوران زمینی حقائق اس اندازے کے برعکس سامنے آئے۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی تجارت اسی راستے سے ہوتی تھی۔ موجودہ کشیدگی کے باعث اس اہم بحری راستے سے جہازوں کی آمدورفت اور عالمی توانائی کی ترسیل کو خطرات لاحق ہیں۔