ایران کے جوہری پروگرام کا 90 فیصد کام ختم کر دیا، اسرائیلی وزیراعظم
باقی میں ہی کر سکتا ہوں، انتخابات سے دو روز قبل بنیامین نیتن یاہو کا نیوز چینل کو سنسنی خیز انٹرویو
فائل فوٹو
اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کا 90 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور اب صرف 10 فیصد باقی رہ گیا ہے، جسے صرف وہی مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے صرف دو روز قبل ‘چینل 14’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے اپنے سیاسی مخالفین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا ”ہم 90 فیصد کام کر چکے ہیں اور صرف 10 فیصد باقی ہے۔ اسے کون مکمل کرے گا؟ آئزن کوٹ اور اخوان المسلمین؟ نہیں، یہ کام صرف میں ہی کر سکتا ہوں۔“
انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں نیتن یاہو نے ایک بار پھر ایران کے جوہری پروگرام اور سیکورٹی کے معاملے کو اپنی مہم کا مرکزی نکتہ بنا لیا ہے۔ ان کا مقابلہ سابق آرمی چیف گادی آئزن کوٹ سے ہو رہا ہے۔
اپنے بیانیے کو تقویت دینے کے لیے نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ تل ابیب میں ایک جوہری دھماکے کی تصویر بھی دوبارہ شیئر کی۔ یہ تصویر دائیں بازو کے ایک اسرائیلی سیاسی تجزیہ کار کی پوسٹ کا حصہ تھی، جس میں ایران کو اسرائیل کی بقا کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا گیا تھا۔
دوسری جانب، نیتن یاہو کے حریف اور سابق آرمی چیف گادی آئزن کوٹ نے ان کے دعووں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وزیراعظم ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایران کے خطرے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ آئزن کوٹ کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو ایران کے خلاف جنگ سے متعلق اپنے طے کردہ اہداف حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔
واضح رہے کہ 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے لیے جاری کردہ قبل از انتخابات سرویز میں بنیامین نیتن یاہو اور گادی آئزن کوٹ کے درمیان کانٹے کے مقابلے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔