اسرائیل کی فوج نے نیتن یاہو کی ایران پر ایکشن کی ہدایت مسترد کر دی

متعلقہ ہدایات پر عمل درآمد سے پہلے معاملے پر تفصیلی بحث اور وزیر اعظم سے قانونی تقاضوں کے تحت دستخط شدہ دستاویزات طلب کیں۔

October 26, 2026 · بام دنیا
اسرائیل کی فوج نے نیتن یاہو کی ایران پر ایکشن کی ہدایت مسترد کر دی

اسرائیل کی فوج نے نیتن یاہو کی ایران پر ایکشن کی ہدایت مسترد کر دی

اسرائیلی میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل ایال ضمیر کے درمیان ایران سے متعلق ممکنہ فوجی کارروائی پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات سے قبل سامنے آیا ہے، جس کے باعث سیاسی قیادت اور فوجی حکام کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات ہیں۔

اسرائیلی چینل 12 کے مطابق جنرل ایال ضمیر ایران سے متعلق ایک غیر متعین فوجی کارروائی کے حوالے سے تحفظات رکھتے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے متعلقہ ہدایات پر عمل درآمد سے پہلے معاملے پر تفصیلی بحث اور وزیر اعظم سے قانونی تقاضوں کے تحت دستخط شدہ دستاویزات طلب کیں۔

رپورٹ میں نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ فوجی قیادت کو خدشہ ہے کہ انتخابات سے عین قبل ایران کے خلاف کوئی اقدام خطے میں کشیدگی بڑھا سکتا ہے اور غلط اندازے کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست تصادم کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ تاہم، رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نامعلوم سیاسی ذرائع نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے انہیں مکمل جھوٹ قرار دیا ہے۔

چینل 12 کے مطابق نیتن یاہو اور جنرل ایال ضمیر کے درمیان اختلافات ایک حالیہ اجلاس کے دوران بھی نمایاں ہوئے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاماحیم ایئربیس پر ہونے والی ملاقات میں ماحول کشیدہ تھا۔ تاہم، اس معاملے کی مکمل تفصیلات اسرائیلی فوجی سنسرشپ کے ضوابط کے باعث سامنے نہ آنے کی بات بھی رپورٹ میں کی گئی ہے۔

رپورٹ میں سکیورٹی سے متعلق ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے جنرل ضمیر کے کردار کو اہم قرار دیا گیا ہے، جبکہ یہ خدشات بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ایران سے متعلق کسی فوجی اقدام کے سیاسی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ دوسری جانب، سیاسی ذرائع کی جانب سے ان الزامات کی تردید کے باعث اس معاملے کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

اسرائیل میں انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ ممکنہ کشیدگی کا معاملہ سیاسی بحث کا حصہ بن گیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انتخابات کے ماحول میں ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی کے علاقائی اور داخلی سیاسی اثرات ہوسکتے ہیں۔ تاہم، ایران پر حملے کی ہدایت، فوجی سربراہ کے مبینہ انکار اور دونوں قیادتوں کے درمیان اختلافات سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے آنے تک انہیں اسرائیلی میڈیا سے منسوب اطلاعات کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔