نیتن یاہو نے انتخابات سے قبل تل ابیب پر جوہری حملے کی اے آئی تصویر شیئر کر دی
تل ابیب پر جوہری حملے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کا منظر دکھایا گیا ہے۔ ان کی اس پوسٹ پر اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں نے سخت تنقید کی ہے۔
نیتن یاہو نے انتخابات سے قبل تل ابیب پر جوہری حملے کی اے آئی تصویر شیئر کر دی
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے انتخابات سے صرف دو روز قبل سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ ایک تصویر شیئر کی، جس میں تل ابیب پر جوہری حملے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کا منظر دکھایا گیا ہے۔ ان کی اس پوسٹ پر اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں نے سخت تنقید کی ہے۔
نیتن یاہو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر یہ پوسٹ شیئر کی، جس میں دائیں بازو کے سیاسی مبصر یووال بلومبرگ کے بیانات بھی شامل تھے۔ ان بیانات میں ایران کے جوہری پروگرام کو اسرائیل کے لیے خطرہ قرار دیا گیا تھا۔
پوسٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تو خطے کی صورتِ حال یکسر تبدیل ہو سکتی ہے۔ نیتن یاہو نے اسرائیلی حکومت کے گرد جاری سیاسی تنازعات کو دھویں کا پردہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے پیچھے موجود اصل خطرے کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
תקראו את הדברים החשובים של יובל בלומברג:
מדינת ישראל נמצאת בסכנה קיומית אמיתית ומוחשית. אם האיראנים ישיגו גרעין, שום דבר כבר לא ישנה יותר. הכל כל כך טפל אל מול הסכנה הקיומית של איראן והציר השיעי.
הסערות המבוימות והמומצאות חדשות לבקרים נועדו להסיט את תשומת הלב מהדבר האחד שהוא… pic.twitter.com/v6L73s0bFO
— Benjamin Netanyahu – בנימין נתניהו (@netanyahu) October 25, 2026
پوسٹ میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اگر اسرائیل کے وسطی علاقے میں دو ایٹم بم گرا دیے جائیں تو پھر موجودہ سیاسی تنازعات کی کیا اہمیت باقی رہ جائے گی؟
نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کے خلاف اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے اسرائیل کے پاس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ صدارت کے دوران مزید دو سال کا وقت موجود ہے۔ ان کے مطابق، اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا گیا تو آنے والی نسلیں موجودہ قیادت کو معاف نہیں کریں گی۔
انہوں نے اس مشن کی تکمیل کے لیے امریکی صدر کے ساتھ قریبی رابطے کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ اس نوعیت کی ذمہ داری نبھانے کے لیے مضبوط رابطہ اور سیاسی دباؤ کا سامنا کرنے کی صلاحیت ضروری ہے۔
نیتن یاہو کی پوسٹ پر اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں نے ردعمل دیتے ہوئے ان پر خوف پھیلانے اور انتخابی مہم میں ایران کے خطرے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے الزامات عائد کیے۔
یش عتید پارٹی کے رہنما گادی آئزن کوٹ نے ایکس پر لکھا کہ نیتن یاہو ایک بار پھر انتخابات سے قبل جھوٹ اور خوف پر مبنی حکمتِ عملی اپنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، اسرائیلی شہریوں کو بڑے پیمانے پر تباہی کے خدشات سے خبردار کرنا ایران کے خلاف جنگ کے اہداف حاصل کرنے میں حکومت کی ناکامی سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
آئزن کوٹ نے کہا کہ مکمل فتح کے وعدوں سے شروع ہونے والا معاملہ اب اس مؤقف تک پہنچ گیا ہے کہ اسرائیل ہتھیار نہیں ڈالے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابات میں عوام نیتن یاہو کی کارکردگی پر اپنا فیصلہ سنائیں گے اور ان کی جماعت اگلی حکومت تشکیل دے کر ملک کو سلامتی اور خوش حالی کی جانب لے جائے گی۔
دوسری جانب ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ یائیر گولان نے بھی نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اسرائیلی وزیرِاعظم کو سوشل میڈیا سے دور رہنا چاہیے، کیونکہ ان کے بقول نیتن یاہو اور ان کے قریبی ساتھی دباؤ میں اپنا توازن کھو رہے ہیں۔
گولان نے مزید کہا کہ منگل کو ہونے والے انتخابات کے ذریعے خوف پھیلانے والی قیادت کو اقتدار سے ہٹا کر اسرائیل میں سلامتی اور اعتدال بحال کیا جائے گا۔