مائیکروسافٹ کا 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی پیکج دینے کا فیصلہ
امریکہ، کینیڈا، بھارت اور برطانیہ میں منتخب شعبوں کے نائب صدر اور ان سے نچلے عہدوں پر کام کرنے والے ملازمین اس پیشکش کے اہل ہوں گے۔
مائیکروسافٹ کا 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی پیکج دینے کا فیصلہ
مائیکروسافٹ نے اخراجات میں کمی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے تقریباً 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ طور پر ملازمت چھوڑنے کی پیشکش کر دی ہے۔ یہ تعداد کمپنی کی مجموعی افرادی قوت کے تقریباً ایک چوتھائی حصے کے برابر ہے۔
کمپنی کے مطابق امریکہ، کینیڈا، بھارت اور برطانیہ میں منتخب شعبوں کے نائب صدر اور ان سے نچلے عہدوں پر کام کرنے والے ملازمین اس پیشکش کے اہل ہوں گے۔ تاہم ڈیٹا سینٹرز، فروخت اور تشہیر سے وابستہ بعض ملازمین کو اس پروگرام سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
مائیکروسافٹ کی ایگزیکٹو نائب صدر اور چیف پیپل آفیسر ایمی کولمین نے ملازمین کو بھیجے گئے پیغام میں کہا کہ رضاکارانہ علیحدگی کا پروگرام کمپنی میں تبدیلی کے عمل کو زیادہ لچکدار بنانے اور ملازمین کو اپنے مستقبل کے حوالے سے فیصلے کرنے کے مزید مواقع فراہم کرنے کا حصہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق رواں سال مائیکروسافٹ کی جانب سے ملازمین کو رضاکارانہ طور پر ملازمت چھوڑنے کی یہ دوسری پیشکش ہے۔ اس سے قبل اپریل میں بھی امریکی ملازمین کے ایک حصے کو قبل از وقت ریٹائرمنٹ کا اختیار دیا گیا تھا، جس سے تقریباً 30 فیصد اہل ملازمین نے فائدہ اٹھایا۔
کمپنی کی مالیاتی دستاویزات کے مطابق جون کے اختتام پر مائیکروسافٹ کے دنیا بھر میں 2 لاکھ 23 ہزار ملازمین تھے، جبکہ 2025 کے اختتام پر یہ تعداد 2 لاکھ 28 ہزار تھی۔
ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھنے کے ساتھ ملازمتوں میں کمی کا رجحان بھی نمایاں ہو رہا ہے۔ نیٹ فلکس، ای بے، میٹا، اوبر اور ایمیزون سمیت متعدد کمپنیوں نے بھی مختلف ادوار میں ملازمین کی تعداد کم کرنے کے اقدامات کیے ہیں۔
مائیکروسافٹ نے اس سے قبل جولائی میں بھی تقریباً 5 ہزار ملازمتیں ختم کی تھیں، جن میں اس کے ایکس باکس گیمنگ شعبے کے ملازمین بھی متاثر ہوئے تھے۔
دوسری جانب مصنوعی ذہانت کے لیے درکار ڈیٹا سینٹرز، کمپیوٹر چپس اور دیگر بنیادی ڈھانچے پر اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے اس شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کے باعث اخراجات میں توازن پیدا کرنا ایک اہم چیلنج بن گیا ہے۔