لوگوں نے نیٹ فلکس دیکھنا کم کر دیا، کمپنی کو شدید نقصان کا سامنا

صارفین کی عدم دلچسپی اور انگیجمنٹ میں ریکارڈ کمی

October 27, 2026 · بام دنیا
لوگوں نے نیٹ فلکس دیکھنا کم کر دیا، کمپنی کو شدید نقصان کا سامنا

لوگوں نے نیٹ فلکس دیکھنا کم کر دیا، کمپنی کو شدید نقصان کا سامنا

اسٹریمنگ کی دنیا کے بے تاج بادشاہ نیٹ فلکس کو اس وقت صارفین کی تعداد میں کسی بڑی کمی کے بجائے ان کی عدم دلچسپی اور ایپ پر گزارے جانے والے وقت میں ریکارڈ گراوٹ کا سامنا ہے۔ وال اسٹریٹ کے ماہرین اور حالیہ کاروباری ڈیٹا کے مطابق، نیٹ فلکس کے صارفین اب اسٹریمنگ پلیٹ فارم پر پہلے سے بہت کم وقت گزار رہے ہیں جس کی وجہ سے کمپنی کی مالیاتی ترقی کی رفتار سست پڑ گئی ہے اور اسٹاک مارکیٹ میں اس کے شیئرز کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئی ہیں۔

ایپ کا استعمال نہ کرنے والے صارفین میں اضافہ

موبائل ٹریکنگ ڈیٹا فراہم کرنے والے معروف ادارے ‘ایپ ٹوپیا’ کی تازہ ترین رپورٹ بتاتی ہے کہ رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں ان امریکی صارفین کی تعداد میں ساڑھے سولہ فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے جنہوں نے پورے تین مہینوں میں ایک بار بھی نیٹ فلکس ایپ کو کھول کر نہیں دیکھا۔ اس کے علاوہ اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ تین سال قبل جہاں ایک صارف اوسطاً ماہانہ چھیاسٹھ گھنٹے نیٹ فلکس دیکھتا تھا، اب وہ دورانیہ کم ہو کر صرف انچاس گھنٹے رہ گیا ہے۔

پاس ورڈ شیئرنگ پر پابندی اور یوٹیوب سے سخت مقابلہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس گراوٹ کی ایک بڑی وجہ سال دو ہزار بائیس میں پاس ورڈ شیئرنگ کے خلاف کی جانے والی سختی ہے، جس کے بعد انفرادی اکاؤنٹس استعمال کرنے والوں کی تعداد محدود ہو گئی اور اس نے براہِ راست دیکھنے کے مجموعی وقت کو متاثر کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ یوٹیوب جیسے مفت پلیٹ فارمز اب اسٹریمنگ مارکیٹ میں ٹی وی دیکھنے کے دورانیے کا ایک بہت بڑا حصہ مسلسل اپنی طرف کھینچ رہے ہیں جس سے نیٹ فلکس کی مقبولیت متاثر ہو رہی ہے۔

نئے سیزنز میں تاخیر اور عالمی ہٹ شوز کا فقدان

نیٹ فلکس کے اس بحران میں مقبول ترین اصلی سیریز اور ڈراموں کے نئے سیزنز کے درمیان کئی کئی سال کا طویل وقفہ بھی ایک بڑی وجہ بن کر سامنے آیا ہے۔ کمپنی گزشتہ کافی عرصے سے کوئی ایسا نیا عالمی ہٹ شو پیش کرنے میں ناکام رہی ہے جو پرانے صارفین کو اسکرین سے جوڑے رکھے یا نئے لوگوں کو اپنی طرف راغب کر سکے۔

اندرونی اختلافات، برطرفیاں اور اعلیٰ قیادت میں تبدیلیاں

کمپنی کو صرف باہر ہی سے نہیں بلکہ اندرونی محاذ پر بھی شدید دباؤ کا سامنا ہے جہاں نیٹ فلکس کے کنٹینٹ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں۔ اسی کارپوریٹ دباؤ کے نتیجے میں کمپنی نے حال ہی میں اپنے چھ فیصد عملے یعنی تقریباً ایک ہزار ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کیا ہے، جبکہ چیف کنٹینٹ آفیسر بیلا بجاریا اور فلم چیف ڈین لن سمیت اعلیٰ قیادت میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

مالیاتی خسارہ اور وال اسٹریٹ پر شیئرز کی گراوٹ

اگرچہ نیٹ فلکس کی تیسری سہ ماہی کی آمدنی بارہ ارب ڈالر سے زائد رہی، لیکن یہ گزشتہ تین سالوں میں کمپنی کی آمدنی میں اضافے کی سب سے سست ترین رفتار ہے۔ مزید برآں، اشتہارات کی سست رفتار پالیسی کے باعث اشتہاری آمدنی بھی متوقع ہدف سے تیس کروڑ ڈالر کم رہنے کا خدشہ ہے، جس کی وجہ سے وال اسٹریٹ پر سرمایہ کاروں نے اپنے ہاتھ کھینچ لیے ہیں اور نیٹ فلکس کے شیئرز بڑی گراوٹ کا شکار ہوئے ہیں۔ تاہم کمپنی کے لیے واحد اطمینان بخش بات یہ ہے کہ صارفین ابھی اکاؤنٹس بند نہیں کر رہے، بلکہ وہ بس اسے دیکھ کم رہے ہیں۔