حوثیوں کا سعودی عرب کے فوجی اڈے کو نشانہ بنانے,2 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ
سعودی عرب کے دو فوجی ٹرانسپورٹ طیاروں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، حوثی ترجمان یحییٰ سریع
فائل فوٹو
صنعا: یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر دو فوجی ٹرانسپورٹ طیاروں اور خمیس مشیط کے فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم سعودی حکام نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کے دو فوجی ٹرانسپورٹ طیاروں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
یحییٰ سریع کے مطابق ایک طیارے کو نجران ایئرپورٹ جبکہ دوسرے کو خمیس مشیط کے فوجی اڈے پر نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں دونوں طیارے تباہ ہوگئے۔ تاہم انہوں نے جانی نقصان سے متعلق کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
دوسری جانب سعودی عرب کی جانب سے ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ سعودی حکام نے اسی روز نجران، خمیس مشیط اور جنوبی علاقوں کے دیگر حصوں میں مختصر دورانیے کے لیے خطرے سے متعلق انتباہات جاری کیے تھے۔
حوثی ترجمان نے بعد ازاں سعودی دارالحکومت ریاض میں وزارتِ دفاع کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم اس حملے کی بھی سعودی حکام نے تصدیق نہیں کی۔
واضح رہے کہ 25 اکتوبر کو بھی حوثیوں نے ریاض، دمام اور نجران کے ہوائی اڈوں، خمیس مشیط کے فوجی اڈے اور تیل کی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔ سعودی عرب نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی، تاہم سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے بعض مقامات پر میزائل حملے ناکام بنانے اور میزائلوں کا ملبہ گرنے کے واقعات کی اطلاع دی تھی۔
ایران سے متعلق جنگ کے اثرات خطے میں پھیلنے کے بعد سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ سعودی عرب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے، جبکہ حوثی دارالحکومت صنعا سمیت ملک کے بڑے حصوں پر قابض ہیں۔ حالیہ کشیدگی کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے درمیان سرحد پار حملوں میں دوبارہ شدت پیدا ہوئی ہے۔