آج نیتن یاہو اور ان کی حکومت گر گئی،اب نئی حکومت بنانا ہوگی:اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ

اسرائیلی عوام نے ملک کو بچانے کے لیے فیصلہ دیا ہے اور نیتن یاہو کی حکومت کو واضح شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

October 28, 2026 · بام دنیا
آج نیتن یاہو اور ان کی حکومت گر گئی،اب نئی حکومت بنانا ہوگی:اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ

آج نیتن یاہو اور ان کی حکومت گر گئی،اب نئی حکومت بنانا ہوگی:اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ

اسرائیل میں انتخابات کے بعد سیاسی صورتحال میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکمرانی کے خاتمے کا دعویٰ کرتے ہوئے نئی حکومت تشکیل دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ نے انتخابی نتائج پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی عوام نے ملک کو بچانے کے لیے فیصلہ دیا ہے اور نیتن یاہو کی حکومت کو واضح شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں یائر لیپڈ کا کہنا تھا کہ عوام کی اکثریت ان کے ساتھ ہے اور جمہوری اصولوں کے مطابق سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اب نئی صیہونی حکومت کی تشکیل اولین ترجیح ہے، جسے وقت کے ساتھ مزید وسیع اور مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

یائر لیپڈ نے اپنی جماعت کے کارکنوں، رضاکاروں اور پارلیمانی نمائندوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں ایک بہادر ساتھی اور بہترین شراکت دار قرار دیا۔

اپوزیشن رہنما کے مطابق اسرائیل کو اس وقت کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں اہم واقعات کی تحقیقات کے لیے سرکاری کمیشن کا قیام، فوجی بھرتی میں مساوات اور قومی ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم شامل ہیں۔ انہوں نے قانون کی حکمرانی اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد بحال کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

دوسری جانب سابق اسرائیلی آرمی چیف اور اپوزیشن اتحاد کے رہنما گادی آئزن کوٹ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ عوام نے نیتن یاہو کی طویل حکمرانی کے خلاف فیصلہ سنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نئی حکومت بنانے کے لیے کوششیں کریں گے اور ملک کو دوبارہ انتخابات کی طرف دھکیلنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔

گادی آئزن کوٹ نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی قومی سلامتی کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے حوالے سے نیتن یاہو کے سخت مؤقف کے باعث خطے میں کشیدگی کے خدشات موجود ہیں۔

دوسری جانب ایگزٹ پولز کے مطابق اپوزیشن اتحاد کو نیتن یاہو کے دائیں بازو کے سیاسی اتحاد پر معمولی برتری حاصل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم ابتدائی اندازوں کے مطابق کوئی بھی فریق اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی واضح اکثریت حاصل کرتا دکھائی نہیں دے رہا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر کسی اتحاد کو واضح اکثریت نہ ملی تو حکومت سازی کے لیے مختلف جماعتوں کے درمیان مذاکرات اہمیت اختیار کر سکتے ہیں۔ ایران کے ساتھ ممکنہ کشیدگی بھی اسرائیل کی داخلی سیاست اور نئی حکومت کی تشکیل پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔