محمد بن سلمان کی زیر صدارت سعودی کابینہ کا اجلاس،تہران مذاکرات اور علاقائی سلامتی کا جائزہ
خطے میں امن کی کوششیں، قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
محمد بن سلمان کی زیر صدارت سعودی کابینہ کا اجلاس،تہران مذاکرات اور علاقائی سلامتی کا جائزہ
ریاض: سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت سعودی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور تہران میں ہونے والی بات چیت کے اہم نکات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
سرکاری میڈیا کے مطابق اجلاس میں تہران میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے نمائندوں اور ایرانی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کے نتائج پر غور کیا گیا۔ کابینہ نے قطر اور پاکستان کی جانب سے ثالثی اور امن کی بحالی کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی بھرپور حمایت کرنے کا اعادہ کیا۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ یہ مذاکرات علاقائی اور بین الاقوامی سکیورٹی اور استحکام کے حوالے سے مملکت کے دیرینہ مؤقف کا عادہ کرتے ہیں۔
اجلاس کے دوران حوثیوں کے بار بار ہونے والے حملوں کو روکنے میں فضائی دفاعی نظام کی صلاحیتوں اور کامیابی کو سراہا گیا۔ سعودی کابینہ نے حوثیوں کے مجرمانہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے مقدس مقامات کے تقدس کی خلاف ورزی، کھلی جارحیت اور مسلمانوں کے جذبات کے خلاف شدید اشتعال انگیزی ہیں۔ کابینہ نے دوٹوک مؤقف اپنایا کہ مملکت کو مکمل حق حاصل ہے کہ وہ حرمین شریفین، زائرین اور سعودی عرب کے شہریوں کی سلامتی کا پورے عزم کے ساتھ دفاع کرے۔
رپورٹ کے مطابق اجلاس میں آبنائے ہرمز اور باب المندب کی صورتحال کے تناظر میں خام تیل کی پیداوار اور ترسیل کو درپیش چیلنجز پر بھی غور کیا گیا۔ عالمی سطح پر توانائی کی بلا تعطل فراہمی جاری رکھنے کے لیے متبادل انتظامات اور راستوں کا جائزہ لیا گیا تاکہ سمندری راستوں میں ممکنہ رکاوٹوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ سعودی کابینہ نے عزم ظاہر کیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھی جائیں گی لیکن قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا۔