پینٹاگون نے چین کے انتہائی خفیہ خلائی جہاز شین لونگ کی تصویر جاری کردی
امریکی دفاعی رپورٹ میں چین کے خلائی ہتھیاروں اور روس کے جوہری سیٹلائٹ منصوبے سے متعلق تفصیلات سامنے آگئیں
پینٹاگون نے چین کے انتہائی خفیہ خلائی جہاز کی تصویر جاری کردی
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ تصویر امریکی کمپنی وینٹور نے حاصل کی ہے، جس میں چین کا بغیر پائلٹ کے چلنے والا پروں والا خلائی جہاز دکھائی دیتا ہے۔ اس کی ساخت امریکی اسپیس فورس کے خلائی جہاز ایکس 37 بی سے ملتی جلتی ہے۔ شین لونگ میں کارگو بے کے دروازے بھی موجود ہیں، جن کے ذریعے خلا میں سیٹلائٹس تعینات کیے جاسکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق شین لونگ 2020 سے اب تک چار معلوم مداری مشن مکمل کرچکا ہے۔ اس کا تازہ ترین مشن فروری میں شروع ہوا تھا، جبکہ اس کے مشن کی پرواز تقریباً نو ماہ تک جاری رہتی ہے۔
امریکی دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی کی رپورٹ میں چین کی جانب سے خلائی ہتھیاروں کی تیاری، بالخصوص ڈائریکٹڈ انرجی لیزرز، کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم، رپورٹ میں ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا کہ شین لونگ خود ہتھیاروں سے لیس ہے۔
رپورٹ میں روس کی جانب سے ایسے سیٹلائٹس تیار کرنے کی کوششوں پر بھی خبردار کیا گیا ہے، جنہیں جوہری ہتھیار لے جانے کے لیے ڈیزائن کیا جارہا ہے۔