اسرائیلی انتخابات : نیتن یاہو مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام ، عرب اتحاد ‘کنگ میکر’
عرب اقلیت کی نمائندگی کرنے والی دو اہم سیاسی جماعتیں19 نشستیں ، نیتن یاہو اتحاد 53 نشستوں تک محدود ،سیاسی حریف گادی آئزن کوٹ اتحادی بلاک 48 نشستیں حاصل کرتا دکھائی دے رہا ہے
فائل فوٹو
تل ابیب: اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے انتخابات میں ملک کی عرب اقلیت (فلسطینی شہریوں) نے غیر معمولی ٹرن آؤٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔
ابتدائی نتائج کے مطابق عرب سیاسی جماعتیں 120 کے ایوان میں رکاوٹیں توڑتے ہوئے ریکارڈ 19 نشستیں حاصل کرتی نظر آ رہی ہیں، جس سے وہ آئندہ حکومت سازی میں اہم ترین ‘کنگ میکر’ کا کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آ گئی
ووٹوں کے اعداد و شمار کے مطابق عرب اقلیت کی نمائندگی کرنے والی دو اہم سیاسی جماعتیں کنیسٹ کی 120 نشستوں میں سے تقریباً 19 نشستیں حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔ یہ تعداد ان کی موجودہ پارلیمانی نمائندگی سے تقریباً دگنی ہے۔
نتن یاہو کا دائیں بازو کا انتہا پسند اتحاد حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام نظر آ رہا ہے اور وہ فی الوقت 53 نشستوں تک محدود ہے۔ دوسری جانب، نتن یاہو کے اہم ترین سیاسی حریف گادی آئزن کوٹ (Gadi Eisenkot) کا اتحادی بلاک 48 نشستیں حاصل کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
اگرچہ عرب ووٹرز نے نتن یاہو اور ان کے انتہا پسند اتحادیوں کی صاف فتح کی راہ روک دی ہے، لیکن اس کے باوجود گادی آئزن کوٹ نے فی الحال عرب جماعتوں کے ساتھ ہاتھ ملانے سے گریز کیا ہے۔ تاہم، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عرب جماعتوں کی حمایت کے بغیر آئزن کوٹ کے لیے اقتدار تک پہنچنا تقریباً ناممکن ہوگا۔
واضح رہے کہ عرب شہری اسرائیل کی مجموعی آبادی کا 21 فیصد ہیں، اور ان کا پارلیمنٹ میں یہ ریکارڈ اضافہ ملکی سیاست کے مستقبل کو نیا موڑ دے سکتا ہے۔