اسرائیلی انتخابات میں غیرملکی مداخلت کا الزام، موساد بھی تحقیقات میں کود پڑی
وساد، داخلی سیکیورٹی ایجنسی شین بیٹ کے ساتھ مل کر انتخابات میں مبینہ بیرونی مداخلت کی تحقیقات کر رہی ہے ،اسرائیلی میڈیا
ئل فوٹو
تل ابیب:نسل پرست اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور دیگر یہودی رہنمائوں کی جانب سے حالیہ انتخابات میں مبینہ غیر ملکی مداخلت کے الزامات کے بعد تحقیقات کیلیے خفیہ ایجنسی موسادبھی کود پڑی۔
اسرائیلی میڈیا چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق موساد، داخلی سیکیورٹی ایجنسی شین بیٹ کے ساتھ مل کر انتخابات میں مبینہ بیرونی مداخلت کی تحقیقات کر رہی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مبینہ مداخلت کے پیچھے صرف قطر ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک بھی ہوسکتے ہیں، الزامات کے مطابق مبینہ طور پر عرب ووٹرز کو منگل کے روز پولنگ اسٹیشنوں پر زیادہ تعداد میں پہنچنے کے لیے رقم دینے کی کوشش کی گئی تھی۔
اسرائیلی خبر رساں ویب سائٹ وائی نیٹ کے مطابق حکام قطر اور ترکی کی جانب سے مبینہ انتخابی اثراندازی کی کوششوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
دوسری جانب قطر اور ترکی دونوں نے اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوششوں میں ملوث ہونے کے الزامات مسترد کردیے ہیں۔
اس سے قبل اسرائیل کے مرکزی انتخابی کمیشن نے بارہا واضح کیا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ محدود ہے اور منگل کو ہونے والے انتخابات کے نتائج پر کوئی سوالیہ نشان نہیں ہے۔
کمیشن نے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات کو بھی بے بنیاد قرار دیا ہے۔