ناکام سزائے موت سے بچنے والی امریکی خاتون کا پہلا بیان سامنے آگیا

ناکام سزائے موت کے واقعے کے بعد سے وہ مسلسل جسمانی درد کا سامنا کر رہی ہیں اور انہیں بولنے میں بھی دشواری پیش آ رہی ہے

October 31, 2026 · بام دنیا
ناکام سزائے موت سے بچنے والی امریکی خاتون کا پہلا بیان سامنے آگیا

ناکام سزائے موت سے بچنے والی امریکی خاتون کا پہلا بیان سامنے آگیا

امریکی ریاست ٹینیسی میں زہریلے انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد زندہ بچ جانے والی 50 سالہ کرسٹا پائیک نے پہلی بار اپنی تکلیف دہ صورتِ حال بیان کر دی ہے۔

کرسٹا پائیک کا کہنا ہے کہ ناکام سزائے موت کے واقعے کے بعد سے وہ مسلسل جسمانی درد کا سامنا کر رہی ہیں اور انہیں بولنے میں بھی دشواری پیش آ رہی ہے۔ ان کے مطابق بازو، ہاتھ اور گلے میں شدید تکلیف ہے، جبکہ ذہنی اور جذباتی اذیت بھی برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق 30 ستمبر کو کرسٹا پائیک کو زہریلے مادے پینٹوباربیٹل کا انجیکشن دے کر سزائے موت دینے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ زندہ بچ گئیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں خود بھی معلوم نہیں کہ وہ اس عمل کے باوجود کیسے زندہ رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس رات کے بعد کوئی لمحہ ایسا نہیں گزرا جب انہیں درد محسوس نہ ہوا ہو۔

کرسٹا پائیک نے سزائے موت کے ناکام طریقۂ کار کو حکام کی نااہلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے نے کئی افراد کو سنگین صورتِ حال سے دوچار کیا۔ جیل واپس منتقل ہونے کے بعد انہوں نے اپنی جان بچانے والے طبی عملے کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اب ان کی توجہ صحت یابی پر مرکوز ہے۔

واضح رہے کہ کرسٹا پائیک کو 1995 میں 19 سالہ کولین سلیمر کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش کے دوران ان کے وکلاء کے مطابق بازوؤں پر جلن اور چھالے پڑ گئے تھے۔ بعد ازاں انہیں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ بے ہوش رہیں اور انہیں سانس لینے کے لیے مصنوعی تنفس کی مشین کی مدد درکار ہوئی۔

واقعے کے بعد ٹینیسی کے گورنر بل لی نے سزائے موت کے ناکام طریقۂ کار کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک دوسرے قیدی کی سزائے موت پر عمل درآمد بھی ملتوی کر دیا گیا، جبکہ ریاست کے محکمہ جیل خانہ جات کے سربراہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔

دوسری جانب کرسٹا پائیک کے وکلاء نے عدالت میں درخواست دائر کر رکھی ہے کہ ان کی موکل کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔