بھارت کے اسکول میں 8 سالہ بچے کا 6 سالہ بچی پر وحشیانہ تشدد۔تنا ظالم کیسے بنا؟

حملہ آورطالب علم کی ذہنی حالت کو سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے

November 2, 2026 · کائنات کے رنگ

تصویر: سوشل میڈیا

 

بھارتی ریاست ہریانہ کے شہر پنچکولا کے ایک سکول میں کلاس روم کے اندر 6 سالہ بچی کے ساتھ 8 سالہ بچے کی مبینہ مارپیٹ کے معاملے میں پولیس نے سکول کے پرنسپل سمیت تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ایف آئی آر کے مطابق یہ واقعہ 28 اکتوبر 2026 کو پنچکولا کے ایک سکول میں پیش آیا تھا۔

اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ یہ ویڈیو کلاس روم میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے کی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کلاس روم میں ان دو بچوں کے علاوہ اور کوئی نہیں۔8 سالہ بچہ اس 6 سالہ بچی کو بالوں سے دبوچ کر بار بار ڈیسک پر پٹختا ہے۔ بچی نیچے گرتی ہیں تو وہ اس کے سر پر پیروں سے ضربیں لگاتا ہے۔ اس کے بعد ایک اینٹ لا کر بار بار اس کے سر پر مارتا ہے۔بچی کا خون پہنے کے باوجود وہ نہیں رکتا اور اسے بالوں سے گھسٹ کر بار بار تشدد کرتا ہے اور اس کے سینے اور چہرے پر لاتیں مارتا ہے۔

بچے کی جانب سے تشدد کی نوعیت نے سوشل میڈیا صارفین کو گہرے صدمے سے دوچار کیا ہے جس کا اظہار کرتے ہوئے کئی لوگوں نے لکھا کہ یہ ایک عام رویہ نہیں، اس کی سرزنش اور روک تھام ضروری ہے ورنہ اس بچے کے بڑا ہونے پر پر یہ بدترین شکل اختیار کر لے گا۔

بچی کے والد نے میڈیا کو بتایاکہ 28 اکتوبر کو سکول کی چھٹی ہونے کے بعد بھی جب بچی نہیں ملی تو ہم اسے سکول کے اندر تلاش کرنے گئے۔ وہاں کسی کو معلوم نہیں تھا کہ بچی کہاں ہے۔پھر ایک چھوٹے بچے نے مجھے بتایا کہ وہ پہلی منزل پر ایک کلاس روم میں ہے۔ جب میں وہاں گیا تو بچی اندر موجود تھی اور کمرے کو تالا لگا ہوا تھا۔ تالا کھلواکربچی کو باہر نکالا گیا۔

پولیس نے اس معاملے میں جووینائل جسٹس ایکٹ 2015 کی دفعہ 75 اور بی این ایس کی دفعہ 125(بی) کے تحت مقدمہ درج کیا۔شکایت کنندہ کا الزام ہے کہ یہ واقعہ سکول انتظامیہ، پرنسپل، کلاس ٹیچر، دیگر عملے اور سیکیورٹی اہلکاروں کی غفلت کے باعث پیش آیا۔شکایت کنندہ نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ سکول کا وقت ختم ہونے کے باوجود زخمی بچی تقریباً دو گھنٹے تک اسی کمرے میں پڑی رہی۔جن تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، ان میں پرنسپل، کلاس انچارج اور چوکیدار شامل ہیں۔

حملے میں شدید زخمی ہونے والی بچی کو پہلے مقامی ہسپتالوں میں لے جایا گیا، جس کے بعد اسے مزید علاج کے لیے چندی گڑھ کے پی جی آئی منتقل کر دیا گیا۔طلاعات کے مطابق بچی کی جان کو فی الحال خطرہ نہیں، تاہم اسےخاصی چوٹیں آئی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) ادیتی سنگھ کے مطابق، طالبہ پی جی آئی میں زیرِ علاج ہے اور اس وقت خطرے سے باہر ہے۔انھوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں بچے کے خلاف تعزیری کارروائی کے بجائے اس کی اصلاح اور کونسلنگ پر توجہ دی جاتی ہے۔اسی وجہ سے متعلقہ بچے کی ذہنی حالت اور رویے کو سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔