انتخابات میں شکست ، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو ہٹانے کیلیے ٹرمپ کے مشورے
ریپبلکنز کی ناکامی کا کچھ الزام ایڈمرل بریڈ کوپر، جو امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ہیں، اور جنرل ڈین کین، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف، پر بھی ڈالا جا سکتا ہے،سی بی ایس نیوز
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ
واشنگٹن: سی بی ایس نیوز کو متعدد ذرائع نے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی ناکامیوں کے بعد اپنے قریبی مشیروں سے ذاتی طور پر اور فون پر بات چیت کے دوران یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو اپنے عہدے پر برقرار رہنا چاہیے یا نہیں۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے بعض معاونین کا کہنا ہے کہ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی ناکامی کا کچھ الزام ایڈمرل بریڈ کوپر، جو امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ہیں، اور جنرل ڈین کین، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف، پر بھی ڈالا جا سکتا ہے۔ دونوں نے ایران کے ساتھ جنگ سے متعلق پالیسی اور فوجی رہنمائی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
تاہم سی بی ایس کو دیگر ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ صدر نے ابھی تک ہیگسیتھ کو تبدیل کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔
انتخابات سے قبل ڈیموکریٹس پہلے ہی ہیگسیتھ کے مواخذے کی کوشش کر رہے تھے اور اب جبکہ ڈیموکریٹس کانگریس کے دونوں ایوانوں میں مضبوط اکثریت رکھتے ہیں، ایسی کسی کوشش کے امکانات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
نائب صدر جے ڈی وینس نے ریپبلکنز کی شکست کا ذمہ دار ایران کے ساتھ جنگ کو قرار دیا ہے۔ انھوں نے بدھ کی صبح ایکس پر ایک تفصیلی پیغام میں لکھا: ’ہماری شکست کی وجہ جنگ تھی۔‘
سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرنے والے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ فلوریڈا کے ریپبلکن گورنر ران ڈی سینٹس کا نام ہیگسیتھ کے ممکنہ متبادل کے طور پر زیرِ غور آ رہا ہے۔ اس مؤقف کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ڈی سینٹس موجودہ کانگریس کے اختتامی عرصے میں سینیٹ سے توثیق حاصل کر سکتے ہیں اور پھر 5 جنوری کو بطور گورنر اپنی مدت ختم ہونے کے بعد یہ عہدہ سنبھال سکتے ہیں۔