اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کا صدارتی بیان منظور
مسلح تنازعات کے دوران بھی سفارتی رابطے برقرار رکھیں، جنگ بندی کے لیے کوششیں جاری رکھیں
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کا صدارتی بیان منظور
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے پیش کردہ صدارتی بیان منظور کر لیا گیا، جس میں زور دیا گیا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے باوجود سفارت کاری اور مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں۔
نیویارک میں منظور ہونے والے اس بیان میں تمام ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ مسلح تنازعات کے دوران بھی سفارتی رابطے برقرار رکھیں، جنگ بندی کے لیے کوششیں جاری رکھیں اور کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
’’فعال جنگی حالات میں سفارت کاری کا کردار‘‘ کے عنوان سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے دوران سفارتی روابط شہریوں کے تحفظ، تشدد میں کمی، انسانی امداد کی فراہمی اور تنازعات کو مزید پھیلنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل نے تنازعات میں شامل فریقین کے درمیان مذاکرات کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ثالثی، دوستانہ مساعی اور براہِ راست یا بالواسطہ رابطوں کو فروغ دینے پر بھی زور دیا ہے، چاہے فوجی کارروائیاں جاری ہوں۔
بیان نومبر کے لیے سلامتی کونسل کی صدر اور لٹویا کی سفیر سانیتا پاولوتا ڈیس لینڈس کی زیر صدارت منظور کیا گیا۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر سید حیدر شاہ نے بیان کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے تنازعات کے پُرامن حل کی عالمی کوششوں میں اہم پیش رفت قرار دیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید حیدر شاہ نے کہا کہ اس بیان کا پیغام واضح ہے کہ دشمنی اور جنگ شروع ہونے کے بعد سفارت کاری ختم نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ایسے حالات میں اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
پاکستان کی یہ سفارتی کوشش سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 کی بنیاد پر آگے بڑھائی گئی، جسے جولائی 2025ء میں پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا۔
صدارتی بیان میں جنگ بندی، انسانی امداد کی محفوظ فراہمی، شہریوں کے تحفظ اور تنازعات کو علاقائی یا عالمی سطح پر پھیلنے سے روکنے کو سفارتی کوششوں کے اہم مقاصد قرار دیا گیا ہے۔
سلامتی کونسل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جنگ بندی کے بعد بھی سیاسی اور سفارتی رابطے جاری رہنے چاہئیں تاکہ تنازعات کا مستقل اور دیرپا حل تلاش کیا جا سکے۔ بیان میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، علاقائی تنظیموں اور ثالثی کے لیے کام کرنے والے ممالک کے کردار کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔