یورپ میں طیاروں کو بم سے اڑانے کی جعلی دھمکیاں، 30 پروازیں متاثر
کچھ طیاروں کو ہنگامی طور پر اتارا گیا جبکہ کئی پروازوں کو لڑاکا طیاروں کی نگرانی میں منزل تک پہنچایا گیا۔
یورپ میں طیاروں کو بم سے اڑانے کی جعلی دھمکیاں، 30 پروازیں متاثر
یورپ کے مختلف ممالک میں مسافر طیاروں کو بم سے اڑانے کی جعلی دھمکیوں کے باعث فضائی سفر کا نظام متاثر ہوگیا۔ رواں ہفتے سامنے آنے والے واقعات میں متعدد پروازوں کا رخ تبدیل کیا گیا، کچھ طیاروں کو ہنگامی طور پر اتارا گیا جبکہ کئی پروازوں کو لڑاکا طیاروں کی نگرانی میں منزل تک پہنچایا گیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات 5 نومبر کو یورپ بھر میں تقریباً 30 پروازیں بم کی جعلی دھمکیوں سے متاثر ہوئیں۔ اس سے قبل منگل کے روز بھی کم از کم سات پروازوں اور ایک کروز شپ کو اسی نوعیت کی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔ ان واقعات کے بعد یورپی فضائی سیکیورٹی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
تاحال کسی یورپی حکومت نے ان دھمکیوں کے ذمہ داروں کی نشاندہی نہیں کی اور نہ ہی کسی گروہ کی جانب سے ان واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے کی تصدیق ہوئی ہے۔
سیکیورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ ان دھمکیوں کے پیچھے ذاتی رنجش رکھنے والے افراد ہوسکتے ہیں، تاہم واقعات کے انداز سے کسی منظم کارروائی کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین اسے ممکنہ ہائبرڈ حملے سے جوڑ رہے ہیں، جس میں سائبر حملوں، غلط معلومات اور تخریب کاری جیسے طریقوں کے ذریعے کسی ملک کے نظام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
فضائی سیکیورٹی گروپ ڈائمی کے سربراہ ایرک شوٹن کے مطابق ان کارروائیوں کے پیچھے کسی مخصوص ملک کا ہاتھ ثابت کرنا مشکل ہے، تاہم ان کا طریقہ کار ماضی میں سامنے آنے والی ہائبرڈ کارروائیوں سے مشابہت رکھتا ہے۔
اٹلی کے ایئرپورٹس کو دھمکی آمیز ای میل موصول
اٹلی میں ایئرپورٹ ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ روم کے فیومیچینو اور میلان کے مالپنسا ایئرپورٹس پر فضائی کمپنیوں، ایئرپورٹ آپریٹرز اور دیگر سروس فراہم کرنے والے اداروں کو دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئی۔
ای میل کا عنوان ’تھریٹ رپورٹ‘ تھا، جبکہ بھیجنے والوں نے خود کو ’میل اسٹیٹ‘ نامی گروہ کا رکن ظاہر کیا۔ پیغام میں دعویٰ کیا گیا کہ ہیلسنکی اور ڈبلن سے آنے والی پروازوں میں دھماکا خیز مواد نصب ہے جو 60 منٹ میں پھٹ جائے گا۔
دوسری جانب روسی بلاگر ولادیسلاو پوزدنیاکوف نے ان دھمکیوں میں اپنے گروہ کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2016 میں میل اسٹیٹ تحریک قائم کی تھی، تاہم یہ گروہ اب موجود نہیں اور بعض افراد اپنے مقاصد کے لیے اس کا نام استعمال کر رہے ہیں۔
کئی یورپی ممالک میں فضائی آپریشن متاثر
دھمکیوں کے باعث فرانس، بلغاریہ، رومانیہ، اسپین، پولینڈ اور ڈنمارک سمیت متعدد ممالک میں فضائی آپریشن متاثر ہوئے۔
فرانسیسی وزیراعظم سباسٹین لیکورنو کے دفتر کے مطابق ڈبلن سے روم جانے والی ایئر لنگس کی پرواز کو فرانسیسی لڑاکا طیاروں نے روک کر ایوریو میں فضائیہ کے اڈے تک پہنچایا۔ بیان کے مطابق پائلٹ نے حکام کی توقعات کے مطابق تعاون نہیں کیا، تاہم اس کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
بلغاریہ کی فضائیہ نے بتایا کہ اس نے تین مسافر طیاروں کو اپنی نگرانی میں بحفاظت زمین پر اتارا۔ ان میں لندن سے صوفیہ جانے والی ریان ایئر کی پرواز بھی شامل تھی، جس کا رخ تبدیل کرکے پلوودیف کی جانب موڑ دیا گیا۔
رومانیہ کی انٹیلی جنس ایجنسی کے مطابق ایمسٹرڈیم سے آنے والی کے ایل ایم کی ایک پرواز کو بھی دھمکی موصول ہوئی۔ یہ طیارہ بخارسٹ میں قیام کے بعد تل ابیب روانہ ہونے والا تھا۔
اسپین میں پولیس کو 20 منٹ کے دوران تین دھمکی آمیز ای میلز موصول ہوئیں۔ ان میں میڈرڈ سے پیرس جانے والی ایئر یوروپا کی دو پروازوں اور روم و میلان سے آنے والی ایبیریا کی چار پروازوں کا ذکر تھا۔ سیکیورٹی خدشات کے باعث میڈرڈ ایئرپورٹ پر طیاروں کو روک کر مسافروں کو اتارا گیا اور جہازوں کی تلاشی لی گئی۔
پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں پیرس جانے والی ایل او ٹی کی پرواز کو اڑان سے پہلے روک دیا گیا اور مسافروں کو دوسرے طیارے میں منتقل کیا گیا۔ کوپن ہیگن ایئرپورٹ پر بھی دو طیاروں کی تلاشی لی گئی۔
ایزی جیٹ، فن ایئر، ایل او ٹی، وِز ایئر، ریان ایئر اور ایئر سربیا کی پروازیں بھی ان دھمکیوں سے متاثر ہوئیں۔ بعض طیاروں نے معمول کے مطابق سفر جاری رکھا، تاہم انہیں راستے میں فوجی طیاروں کی نگرانی فراہم کی گئی۔
مسافروں کو ہنگامی صورتحال کا سامنا
میلان سے بخارسٹ جانے والی وِز ایئر کی پرواز میں سوار مسافر ایلینا پالا کے مطابق طیارے کو مرکزی ٹرمینل سے دور رن وے کے ایک حصے میں منتقل کیا گیا، جہاں فائر بریگیڈ، ایمبولینسز اور انسداد دہشت گردی کے اہلکار موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسافروں کو ابتدا میں صرف ہنگامی صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔
برطانوی ایئرلائن پائلٹس ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر فلائٹ سیفٹی جوجی ویٹس نے کہا کہ فضائی کمپنیاں ہر دھمکی پر فوری طور پر کارروائی نہیں کرتیں بلکہ پہلے ماہرین اس کی ساکھ اور خطرے کی نوعیت کا جائزہ لیتے ہیں۔ دھمکی قابلِ اعتبار قرار پانے پر ضروری حفاظتی اقدامات کیے جاتے ہیں۔
دیگر اہم شعبوں پر سائبر حملوں نے بھی تشویش بڑھا دی
فضائی پروازوں کو دھمکیوں کے ساتھ یورپ کے دیگر اہم شعبوں میں سائبر حملوں کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ سائبر سیکیورٹی کمپنی سائوی ایشن کے سربراہ ایلیران الموگ کے مطابق طیاروں کو جعلی بم دھمکیاں دینے کا ایک مقصد ایئرلائنز، ایئرپورٹس اور حکومتی اداروں کے ردعمل کو جانچنا بھی ہوسکتا ہے۔
ان کے مطابق اسی عرصے میں یورپ کی مختلف سپر مارکیٹوں کے ریفریجریشن سسٹمز اور فرانس کے بلڈ بینکوں کو بھی سائبر حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ نامعلوم ہیکرز نے متعدد یورپی ممالک میں سپر مارکیٹوں کے فریزرز بند کیے، جبکہ فرانس میں بلڈ بینک سروسز بھی متاثر ہوئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اہم شعبوں میں اس طرح کی رکاوٹیں کاروباری سرگرمیوں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ عوام کے اداروں پر اعتماد کو بھی متاثر کرسکتی ہیں۔
تاہم اب تک فضائی پروازوں کو موصول ہونے والی دھمکیوں اور دیگر سائبر حملوں کے درمیان کسی براہ راست تعلق کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ یہ بھی واضح نہیں کہ ان واقعات کے پیچھے ایک ہی گروہ ہے یا مختلف عناصر الگ الگ کارروائیاں کر رہے ہیں۔