اسرائیلی صدر اتوار کو حکومت سازی کی دعوت دیں گے ، گادی آئزن کوٹ کو67 ارکان کی حمایت حاصل
46 ارکان نے موجودہ قائم مقام وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا نام پیش کیا،7 ارکان نے کسی کی بھی حمایت نہیں کی
فائل فوٹو
یروشلم: اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے پارلیمانی انتخابات کے بعد سیاسی رہنماؤں کے ساتھ مشاورت مکمل کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ اتوار کو کنیسیٹ (پارلیمنٹ) کے اس رکن کو نئی حکومت بنانے کی ذمے داری سونپیں گے جس کی کامیابی کے امکانات سب سے زیادہ ہیں۔
صدر ہرزوگ کے مطابق 120 رکنی پارلیمنٹ کے 67 ارکان نے سابق فوجی سربراہ اور سینٹرسٹ “یاشار” پارٹی کے قائد گادی آئزن کوٹ کی حمایت کی ہے جبکہ 46 ارکان نے موجودہ قائم مقام وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا نام پیش کیا ہے۔7 ارکان نے کسی کی بھی حمایت نہیں کی۔
اس انتخابی پیش رفت میں اسرائیل کی سب سے بڑی عرب اتحاد ‘جوائنٹ لسٹ’ (11 نشستیں) اور ‘راعم’ (8 نشستیں) نے گادی آئزن کوٹ کی حمایت کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ عرب نمائندہ جماعتوں نے تاریخی 19 نشستیں حاصل کر کے آئندہ حکومت سازی میں اہم ترین کردار اختیار کر لیا ہے۔
جوائنٹ لسٹ نے واضح کیا کہ ان کے اس فیصلے کا مقصد بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کی دوبارہ واپسی کو روکنا اور عوام کے مطالبات پر عمل درآمد کو ممکن بنانا ہے۔
27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کے بعد کوئی بھی اتحاد مکمل اور واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکا۔ نیتن یاہو کی دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں پر مشتمل بلاک نے 53 نشستیں حاصل کی تھیں، جبکہ آئزن کوٹ کی پارٹی اور ان کی اتحادی یہودی اپوزیشن جماعتوں نے 48 نشستیں حاصل کی تھیں۔
عرب جماعتوں کے 19 ارکان کے ساتھ اپوزیشن اتحاد کو عددی لحاظ سے 67 ارکان کی حمایت حاصل تو ہو گئی ہے، تاہم اپوزیشن کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے اب بھی ایک مستحکم حکومت کا قیام ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔
دوسری طرف نیتن یاہو نے الیکشن میں غیر ملکی مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر عرب اراکین نے حکومت پر سیاسی انتقام اور بے بنیاد الزامات کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔
صدر اسحاق ہرزوگ نے اتوار کو حتمی فیصلہ سنانے سے قبل تمام پارٹی رہنماؤں سے مزید انفرادی بات چیت کا بھی اشارہ دیا ہے تاکہ سیاسی تعطل کو ختم کیا جا سکے۔