امریکا کا ایران پر نیا حملہ، جزیرہ قشم میں فضائی دفاعی نظام تباہ کرنے کا دعویٰ
صدر ٹرمپ کے مطابق کارروائی چند منٹوں میں مکمل، ایرانی میڈیا کا امریکی پریڈیٹر ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
امریکی بمباری میں ایران کے 6 نیول اہلکار اور 3 پائلٹس سمیت 21 افراد شہید؛ 140 زخمی
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر نئے محدود فوجی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب جزیرہ قشم میں ایرانی فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنا کر تباہ کردیا۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے جزیرہ قشم کے علاقے سوزہ میں دو دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاع دی تھی۔ جزیرہ قشم آبنائے ہرمز میں واقع ہے، جو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کا ایک انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق فلوریڈا کے شہر ویسٹ پام بیچ پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے امریکی فوجی کارروائی کو معمولی قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران نے ایک چھوٹا فضائی دفاعی نظام تیار کیا تھا، جسے امریکی فوج نے چند منٹوں میں تباہ کردیا۔
ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی فوج نے یہ کارروائی تقریباً 15 منٹ بلکہ ممکنہ طور پر صرف پانچ منٹ میں مکمل کی۔ تاہم امریکی صدر نے حملے کے ہدف یا کارروائی سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فضائی دفاعی نظام نے جزیرہ قشم کے اوپر امریکی ایم کیو ون پریڈیٹر ڈرون بھی مار گرایا ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے جزیرہ قشم اور آبنائے ہرمز کے اطراف یہ دوسری امریکی فوجی کارروائی ہے۔