غزہ میں بارش کی تباہ کاریاں، 70 ہزار خیمے زیر آب آگئے

بارش کا پانی خیمہ بستیوں اور سڑکوں پر جمع ہونے سے عارضی پناہ گاہیں متاثر ہوئیں۔ کئی خاندانوں کو اپنا سامان اور اہل خانہ محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا

November 8, 2026 · بام دنیا
غزہ میں بارش کی تباہ کاریاں، 70 ہزار خیمے زیر آب آگئے

غزہ میں بارش کی تباہ کاریاں، 70 ہزار خیمے زیر آب آگئے

غزہ: اسرائیلی حملوں کے باعث بے گھر ہونے والے فلسطینی خاندانوں پر بارش نے ایک نئی آزمائش مسلط کردی، شدید بارش کے نتیجے میں ہزاروں خیمے زیر آب آگئے جبکہ امدادی سامان اور ضروری سہولیات کی کمی نے متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا۔

بارش کا پانی خیمہ بستیوں اور سڑکوں پر جمع ہونے سے عارضی پناہ گاہیں متاثر ہوئیں۔ کئی خاندانوں کو اپنا سامان اور اہل خانہ محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا، جبکہ بعض بے گھر فلسطینی خیموں میں داخل ہونے والے پانی کو بالٹیوں کے ذریعے باہر نکالتے رہے۔

غزہ کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے باعث فلسطینی مسلسل تیسرے موسم سرما میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ بارش اور سرد موسم سے بچاؤ کے لیے مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث خیموں میں مقیم خاندانوں کی مشکلات مزید سنگین ہوگئی ہیں۔

غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے مطابق گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران کم از کم 70 ہزار خیمے بارش کے پانی سے متاثر ہوئے، جس کے نتیجے میں دسیوں ہزار بے گھر افراد مشکلات کا شکار ہوگئے۔

غزہ کی سول ڈیفنس سروس کا کہنا ہے کہ بارش سے متاثرہ بے گھر شہریوں کی جانب سے امداد کے لیے متعدد فون کالز موصول ہوئی ہیں، تاہم امدادی کارروائیوں میں وسائل کی کمی بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔

میونسپل اور سول ڈیفنس حکام نے بتایا کہ ایندھن کی قلت اور ضروری مشینری و آلات کی تباہی کے باعث بارش کے پانی کی نکاسی اور متاثرین کی مدد کرنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔

حکام کے مطابق جنگ کے دوران اسرائیلی کارروائیوں میں بلڈوزروں اور پانی نکالنے والی مشینوں سمیت سول ڈیفنس کی سیکڑوں گاڑیاں تباہ ہوچکی ہیں، جس سے ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ کے 20 لاکھ سے زائد شہریوں کی بڑی تعداد بے گھر ہوچکی ہے، جبکہ علاقے کا بیشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا ہے۔ بنیادی سہولیات کی تباہی کے باعث لاکھوں فلسطینی آج بھی عارضی خیمہ بستیوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔