حراستی مراکز میں چینی مسلمانوں کیلئے فاقے یا مرغن کھانے!

چین میں ایغور مسلمانوں کے ساتھ چینی حکومت کی طرف سے روا رکھا گیا سلوک دنیا بھر میں موضوع بحث بن رہا۔ پاکستانی مردوں کی چینی مسلمان بیویوں کو ’حراستی مراکز‘ میں لے جا کر ان کی اصلاح کرنے کی کوششوں پر گذشتہ دنوں کافی رپورٹیں سامنے آچکی ہیں۔ روزنامہ ’’امت‘‘ نے بھی ان پاکستانی شوہروں کے انٹرویوز شائع کیے جن کی بیویاں صوبہ سنکیانگ میں قید ہیں۔ تاہم اب اس معاملے میں نئے اور زیادہ سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ کچھ عرصے سے ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہے جس میں ایک سیکورٹی افسر ایک شخص پر بہیمانہ تشدد کر رہا ہے۔

اسی طرح حراستی مراکز میں لوگوں کو بھوکا رکھ کر انہیں مطیع بنانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ ایسی ایک کہانی گلبہار جلیل کی ہے جو سوا برس حراستی مرکز رہیں۔ تاہم دنیا بھر میں مقیم مسلمانوں سمیت چینی شہری اب اس معاملے کا دوسرا رخ بیان کرنا شروع ہوگئے ہیں۔

ایغور مسلمانوں پر تشدد کی جو ویڈیو وائرل ہوئی اس میں سیکورٹی اہلکار جب گرفتار شخص پر ہنڑ برساتا ہے تو نیم برہنہ قیدی اللہ اکبر کے نعرے لگاتا ہے۔ یہ ویڈیو اب بہت سے پاکستانی شہری بھی سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں۔ روسی خبر رساں ادارے  سپٹنک کی ترک سروس سے وابستہ چینی صحافی ارکن اوکان نے اس ویڈیو کی حقیقت بتائی ہے۔ ارکن کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو درحقیقت انڈونیشیا میں مئی 2017 میں بنی جس میں انڈونیشیا کے اہلکار ایک گرفتار ’گینگ رکن‘ پر تشدد کر رہے ہیں اور اس کا چین سے کوئی تعلق نہیں۔

ارکن کے بقول وہ ترکی میں مقیم ہیں۔ سنکیانگ سے نقل مکانی کرنے والے متعدد مسلمان چینی شہری بھی ترکی میں ہی پناہ حاصل کرتے ہیں۔ بظاہر ارکن کا چینی حکومت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں البتہ پاکستان میں چینی نائب سفیر لی جیان ژائو نے ویڈیو شائع کرنے والی پاکستانی خاتون رابعہ کی تصحیح کرنے پر ارکن کا شکریہ ادا کیا ہے۔

ایغور مسلمانوں پر مظالم کے حوالے سے ایک اور وضاحت  چینی مسلمان خاتون ایوا ژینگ نے کی جن کا اسلامی نام عائشہ ہے۔ ایوا یا عائشہ پاک چین دوستی اور سی پیک منصوبے کی زبردست حامی ہیں اور اکثر اس

حوالے سے لکھتی ہیں۔

انہوں ٹوئیٹر پر ایک ویڈیو شائع کی جس میں کسی بڑے کچن میں بہت سے لوگوں کے لیے مرغن کھانے تیار ہو رہے ہیں۔ عائشہ اس کے ساتھ کیپشن میں لکھتی ہیں، ’’سنکیانگ کے ’حراستی مراکز‘ میں آپ کو وزن کم کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ ہمارے ساتھ آنا چاہیں گے۔‘‘

اس ویڈیو کے برعکس چینی حراستی مراکز سے کچھ اور ہی کہانیاں ماضی میں سامنے آ چکی ہیں

قزقستان میں پیدا ہونے والی اور وہیں کی شہریت رکھنے والی گل بہار جلیل نسلی طور پر ایغور ہیں۔ وہ ایک چینی شہری کے ساتھ مل کر طویل عرصے سے کاروبار کر رہی تھیں۔ 2017 میں ان کے چینی پارٹنر نے انہیں سنکیانگ کے شہر ارومچی پہنچ کر کچھ اشیا لے جانے کے لیے کہا۔ جیسے ہی وہ ارومچی پہنچیں انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ ایک سال تین ماہ اور 10دن بعد انہیں رہائی ملی۔ رہائی کے بعد گل بہار نے ترکی میں پناہ لی ہے۔

چین کی قید میں رہنے والی ایغور مسلمان خاتون گلبہار جلیل ترک ٹی وی کو انٹریو میں اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں بتا رہی ہیں
چین کی قید میں رہنے والی ایغور مسلمان خاتون گلبہار جلیل ترک ٹی وی کو انٹریو میں اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں بتا رہی ہیں

ترکی میں قیام کے دوران انہوں نے بتایا کہ حراستی مرکز میں انہیں انتہائی تنگ کوٹھری میں رکھا گیا اور بہت کم کھانا دیا جاتا تھا، اتناکم کہ فاقہ کشی کا عالم تھا۔

گلبہار کے مطابق انہیں کھانے کیلئے صرف اسٹیمڈ بن ملتے تھے۔ اور پینے کے لیے صرف پانی۔ جب ان کی رہائی کا فیصلہ ہوگیا تو بتایا گیا کہ اب انہیں اضافی کھانا ملے گا۔

گلبہار جلیل بار بار ایک ہی بات کہتی ہیں۔ ’’میں چینی پولیس سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ مجھے ایک سال تین مہینے دس دن کیوں قید رکھا۔ ‘‘

ایغور مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے نارروا سلوک پر سچ اور جھوٹ آپس میں مدغم ہو رہے ہیں کیونکہ حقیقی صورت حال بیرونی دنیا کے سامنے نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.