لاہور میں ’شیطان کے مجمسے‘ سے پھیلتی وحشت

لاہور کے عجائب گھر کے سامنے ایک ’’شیطان  کا مجسمہ‘‘ نصب کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں شہر میں اور اس کی تصاویر دیکھ کر ملک کے دیگر علاقوں میں لوگ بے چینی کا شکار ہو رہے ہیں اور اسے ہٹانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

ایک خاتون نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست بھی دائر کردی جس پر عدالت نے جواب طلب کرلیا۔

لاہور عجائب گھر کے ترجمان نے مجسمہ رکھے جانے کی وجہ بیان کردی ہے۔

لاہور میوزیم یا عجائب گھر میں یہ مجسمہ نصب ہوئے ایک ہفتے سے بھی زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن یہ معاملہ جمعرات کو سوشل میڈیا سمیت ہر جگہ زیربحث آنا شروع ہوگیا۔

لوسیفر انسان کے زوال کی علامت ہے۔ ایسا زوال جو انسان کی اپنی غلطی کی وجہ سے ہوا
لوسیفر انسان کے زوال کی علامت ہے۔ ایسا زوال جو انسان کی اپنی غلطی کی وجہ سے ہوا

مجسمہ انسانوں کی طرح سیدھا کھڑی ہونے والی مخلوق کا ہے جس کے دو بڑے سنگھ ہیں جبکہ ہاتھی دانت نما دانت بھی ہیں۔ اس کا بہت بڑا منہ ہے جس میں اوپر کی طرف بھیڑیوں جیسے دو لمبے دانت دکھائی دیتے ہیں۔

دو بڑے سینگوں میں سے ایک سینگ ٹوٹا ہوا ہے۔ مجسمے کے چہرے پر وحشت ہے۔ ہاتھ اور پائوں کے ناخن جانوروں کی طرح نوکیلے ہیں۔

عام لوگ اسے ’’شیطان کا مجسمہ‘‘ کہہ رہے ہیں جبکہ میوزیم کے ترجمان عاصم رضوان نے بھی کہا کہ یہ lucifer کا مجسمہ ہے۔ لوسیفر لاطینی میں شیطان کو کہتے ہیں۔ انگریزی میں بھی یہ اصطلاح عام ہے۔

یورپی ادب میں لوسیفر کو انسان کے زوال کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ایسا زوال جو اس کی اپنی غلطیوں کے سبب ہو۔ اس سلسلے میں جرمن اور انگریزی ادب کا ڈرامہ Dr Faust مقبول ہے۔

اگرچہ ایک نجی ٹی وی کا کہنا ہے کہ مجسمہ ایک ایونٹ منیجمنٹ کمپنی کی ملکیت ہے جو اسے مختلف جگہ پر پہلے بھی لگا چکی ہے تاہم

ردعمل سامنے آنے کے بعد عجائب گھر انتظامیہ نے مجسمہ ڈھانپ دیا
ردعمل سامنے آنے کے بعد عجائب گھر انتظامیہ نے مجسمہ ڈھانپ دیا

گھر کے ترجمان عاصم رضوان نے ایک ویڈیو بلاگر ندیم اعوان کے سوال پر بتایا کہ مجسمہ پنجاب یورنیورسٹی کے طلبہ نے بنایا ہے اور یہ انسان کے اندر چھپے شیطان کی عکاسی کرتا ہے۔

عاصم رضوان کا کہنا تھا کہ پنجاب یونیورسٹی کے آرٹ کے طلبہ کی ایک نمائش ہونے والی ہے اور اسی مقصد کے لیے یہ مجسمہ اور دیگر مجسمے میوزیم لائے گئے تاہم چونکہ مجسمے کو اس کے حجم کے باعث اندر رکھنے کی جگہ نہیں لہٰذا باہر رکھ دیا گیا۔

مجسمہ میوزیم کے باہر کنکریٹ کی ایک بنیاد کے اوپر رکھا ہے جسے جمعرات تک ایک سبز پلاسٹک سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔

میوزیم کے ترجمان نے کہا کہ میوزیم میں آنے والے کچھ لوگ اس مجمسے کو دیکھنے اور اس کے ساتھ تصویر بنانے کے خواہشمند ہوتے ہیں اور وہ پلاسٹک شیٹ ہٹانے کی فرمائش کرتے ہیں۔ لیکن میوزیم نے اسے ڈھانپ کر رکھا ہوا ہے۔

کوئی تو شیطان کے خلاف نکلا۔ جسٹس فرخ

شیطان کے مجسمے کے خلاف جہاں لوگوں نے تحریک انصاف کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے وہیں ایک خاتون نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جس پر جمعرات کو سماعت بھی ہوئی۔

عائب گھر کے ترجمان رضوان عاصم ویڈیو لاگر ندیم اعوان سے گفتگو کرتے ہوئے
عائب گھر کے ترجمان رضوان عاصم ویڈیو لاگر ندیم اعوان سے گفتگو کرتے ہوئے

درخواست گزار عنبرین قریشی کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ میوزیم انتظامیہ نے شیطان کا ایک مجسمہ نصب کردیا ہے، جس کی وجہ سے سکولوں سے آئے بچے ڈر جاتے ہیں۔

درخواست میں کہا گیا اس مجسمے کا ہماری ثقافت سے کوئی تعلق نہیں جبکہ میوزیم کا مقصد ہی ہماری تاریخ اور ثقافت کو محفوظ بنانا ہے لہذا عدالت مجسمہ ہٹانے کا حکم دے۔

جسٹس محمد فرخ عرفان نے کہا کہ شیطان کو قابو کرنا ہے ہم سب کی ذمہ داری ہے، شکر ہے شیطان کے خلاف کوئی تو باہر نکلا۔

عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب اور ڈائریکٹر لاہور میوزیم کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کرلیا۔

بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس مجسمے کا تعلق المناتی سے بھی جوڑا ہے۔

تبصرے بند ہیں.