بھارت میں مسلم کش فسادات۔مسلمانوں کی املاک نذر آتش

بھارتی شہر آگرہ میں مسلم کش فسادات کے دوران درجنوں دکانیں جلا دی گئیں جب کہ 3 افراد زخمی ہوگئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق کے آگرہ کے گاؤں سیمرہ میں مسلم کش فسادات کے باعث شدید تناؤ اور کشیدگی برقرار ہے، مشتعل اور جنونی ہندئووں نے مسلمانوں کی دکانوں اور املاک کو نذر آتش کردیا جب کہ ایک نوجوان کو شدید زخمی حالت میں اسپتال لایا گیا ہے۔

گاؤں کے مسلمان مکینوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ خود کو محفوظ تصور نہیں کر ر ہے اس کے باوجود تاحال پولیس نے حملہ آوروں کیخلاف ایف آئی آر درج نہیں کی اور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق فسادات کا آغاز دو مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے نو عمر لڑکے اور لڑکی کے گھر سے فرار ہونے کے بعد ہوا، پولیس نے پسند کی شادی کے خواہاں جوڑے کو دہلی سے برآمد کر کے لڑکے کو لڑکی کے اغوا اور اسمگلنگ کے الزام میں حراست میں لے لیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پہلی ترجیح نوعمر لڑکے کوعدالت میں پیش کرنا ہے جس کے بعد اگرکسی شہری نے درخواست دی تو ایف آئی آر درج کرلی جائے گی تاہم علاقہ مکینوں کا دعویٰ ہے کہ 25 افراد ایف آئی آر کے اندراج کے لیے پولیس اسٹیشن گئے تھے لیکن پولیس نے ٹال دیا تھا۔

تبصرے بند ہیں.