عرب لیگ نےامریکی امن منصوبہ فلسطینیوں کے حقوق کی بربادی قرار دیدیا

عرب لیگ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے منگل کے روزاعلان کردہ امن منصوبے میں فلسطینیوں کے حقوق پامال کیے گئے ہیں۔

العربیہ کے مطابق عرب لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابو الغیط نے کہاہے کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے بیچ منصوبے کے ابتدائی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں فلسطینیوں کے قانونی حقوق کو بڑے پیمانے پر برباد کیا گیا ہے۔

تاہم ابو الغیط نے واضح کیا کہ “ہم امریکی ویژن کا باریک بینی سے جائزہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں ، ہم امن کو یقنی بنانے کی خاطر کسی بھی سنجیدہ کوشش کے لیے کشادہ دلی کے حامل ہیں”۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فلسطین اور اسرائیل کے حوالے سے متنازع منصوبے کے اعلان کے بعد عرب لیگ نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا۔عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس آئندہ ہفتے مصری دارالحکومت قاہرہ میں ہوگا جس میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس بھی شریک ہوں گے۔

عرب لیگ کے ڈپٹی سیکریٹری حصام ذکی نے کہا ہے کہ قاہرہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نام نہاد ڈیل آف سنچری پر تبادلہ خیال کیلیے عرب لیگ کا اجلاس آئندہ ہفتے ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں عرب ممالک ڈیل کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے اوراس کے اثرات کا جائزہ لیں گے۔جس کے بعد اپنا موقف واضح کیاجائے گا۔انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں فلسطینی صدر محمود عباس بھی شریک ہوں گے اور یہ غیرمعمولی اجلاس انہی کی درخواست پر ہی بلایا گیاہے۔

واضح رہے کہ دو سال سے زیادہ عرصے تک خفیہ طورپرکام کرنے اورانکشاف میں التوا کے بعد آخر کار گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطی کے لیے اپنے امن منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

ٹرمپ نے “دو ریاستی حل” کی تجویز کے ساتھ باورکرایا ہے کہ “فلسطینیوں کا حق ہے کہ وہ اب کے مقابلے میں بہت بہتر زندگی گزاریں”۔ تاہم امریکی منصوبے کو فلسطین نے بھی مسترد کردیا۔

تبصرے بند ہیں.