ایس او پی کی خلاف ورزی پر ملک بھر کی بڑی مارکیٹیں بند کرنے کا فیصلہ

ملک بھر میں ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے والی بڑی مارکیٹیں بند کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی بڑی مارکیٹس بند کرنے کیلیے آپریشن شروع کر دیا گیا۔

چیف سیکرٹری پنجاب نے این سی او سی میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا غیر ذمہ داری موت کا سبب بن رہی ہے۔ ایس او پیز پر عمل درآمد سے ہی کوروونا کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے۔ پنجاب کی بڑی مارکیٹیں این سی او سی کے فیصلوں کے تناظر میں بند کی جائیں گی، انڈسٹریل ایریاز، مارکیٹس اور ٹرانسپورٹ کو پابند بنایا جائے گا، خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے عائد کیے جائیں گے۔

چیف سیکرٹری پنجاب نے حکم دیا کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی کی مرتکب دکانوں اور بازاروں کو فوری بند کر دیا جائے، ماسک کی پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے، احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے انتظامی اور پولیس افسران خود فیلڈ میں موجود رہیں۔

دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل  کا کہنا ہے کہ ایس او پی کی خلاف ورزی پر ملک میں کئی بڑی مارکیٹیں آج بند کردی جائیں گی۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران ایس او پی فالو نہ کرنے پر پورے ملک میں کئی بڑی مارکیٹیں آج بند کردی جائیں گی، پنجاب اور کے پی کے میں آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، ہم سب کو ہر صورت ایس او پیز فالو کرنے ہوں گے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹرکے اجلاس میں چیف سیکریٹری پنجاب نے عوام کی جانب سے لاک ڈاؤن کے دوران ایس او پیزپرعملدرآمد نہ کرنے پر حکومت پنجاب کے ایکشن سے آگاہ کیا اوربتایا کہ کورونا کیسزکی بڑھتی تعداد کے پیش نظر لاہور، فیصل آباد اورراولپنڈی سمیت بڑے شہروں کے بڑے بازارآج سے بند کرائے جارہے ہیں۔

دوسری جانب راولپنڈی میں دکانیں سیل کرنے کے لیے ٹیمیں تشکیل دیدی گئی ہیں، ضلعی انتظامیہ کے مطابق شہر اور کینٹ میں یہ ٹیمیں پونے7 بجے آپریشن کے لیے نکلیں گی، شام 7 بجے کے بعد کھولی گئی دکانیں اور مارکیٹیں سیل کردی جائیں گی۔

نجی ٹی وی کے مطابق پنجاب کی بڑی مارکیٹیں این سی او سی کے فیصلوں کے تناظر میں بند کروانے کا فیصلہ کر لیاہے ۔ لاہور ، فیصل آباد اور راولپنڈی میں ایکشن چند گھنٹوں میں شروع ہو جائے گا ، ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائے جائے گی ۔تمام صوبوں میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دیدی گئی ہیں ، انڈسٹریل ایریاز، مارکیٹس اور ٹرانسپورٹرز کو پابند کیا جائے گا۔

تبصرے بند ہیں.