نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا

نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری کا آغاز قومی ترانے سے ہوا جو لیڈی گاگا نے گایا۔ اس کے بعد مذہبی کلمات ادا کیے گئے۔
جوبائیڈن نے ایک ہاتھ بائبل اور دوسرا ہاتھ اٹھاکر حلف اٹھایا اور امریکا کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ان سے عہدے کا حلف لیا۔
سابق صدور باراک اوباما اور جارج بش نومنتخب صدر جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے کیپٹل ہل پہنچے۔ تقریب حلف برداری پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بجے شروع ہوئی۔
نومنتخب صدر جوبائیڈن اپنے موٹرکیڈ میں کیپٹل ہل پہنچے۔ ان کی اہلیہ اور ڈاکٹر جل بائیڈن بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ نائب صدر کملا ہیرس بھی اس موقع پر موجود تھیں۔
سبکدوش ہونے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کو الوداع کہہ دیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ میرین ون ہیلی کاپٹر میں سوار ہوکر آخری بار وائٹ ہاؤس سے رخصت ہوگئے۔
امریکا کے نومنتخب صدر جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری پاکستانی وقت کے مطابق آج رات 10 بجے واشنگٹن ڈی سی میں ہوئی۔ امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ چوتھے صدر ہیں جو آنے والے صدر کی تقریب حلف برداری میں شریک نہیں ہوں گے۔
جوبائیڈن کے ساتھ نائب صدر منتخب ہونے والی کملا ہیریس نے بھی عہدے کا حلف اٹھایا۔ امریکا کی تاریخ میں وہ اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے نکل کر ٹرمپ نے فلوریڈا میں واقع اپنے ریزورٹ جانے سے پہلے جوائنٹ بیس اینڈریوز میں فوجی تقریب سے خطاب کیا جس میں انہوں نے اپنے 4 سالہ دور صدارت کے چیدہ کارنامے گنوائے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’مجھے فخر ہے کہ دہائیوں بعد میں پہلا امریکی صدر ہوں جس نے کوئی نئی جنگ شروع نہیں کیں بلکہ میں نے مشکل اور سب سے سخت ترین لڑائیوں کا انتخاب کیا کیونکہ آپ نے مجھے اسی لیے منتخب کیا تھا۔‘
ان سخت ترین لڑائیوں سے ٹرمپ کی مراد دیگر ممالک کے ساتھ اپنی مرضی کے تجارتی معاہدے، نیٹو اتحاد میں شامل ممالک کو مزید فنڈ فراہم کرنے پر مجبور کرنا، چین کے ساتھ کشیدگی، مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا اور عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کروانا ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے حامیوں کو یقین دہانی کروائی کہ وہ ہمیشہ ان کیلئے لڑیں گے۔ صدر کے عہدے سبکدوش ہونے کے بعد بھی اپنے حامیوں پر نظر رکھیں گے، ان کو سنیں گے اور کسی اور صورت میں سامنے آئیں گے۔
اپنی صدارت کے آخری گھنٹوں میں ٹرمپ نے اپنے سابق مشیر اسٹیو بینن سمیت 73 افراد کو معاف کردیا لیکن عام خیال کے برعکس انہوں نے اپنے اور اہل خانہ میں سے کسی بھی فرد کے لئے قبل از وقت ’معافی نامے‘ جاری نہیں کیے۔
جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری کی کوریج کیلئے موجود بی بی سی کی رپورٹر نے لکھا ہے کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ جنوری میں یہ تقریب کرنے کا آئیڈیا اچھا تھا یا نہیں لیکن یہاں خون جما دینے والی سردی ہے جبکہ تیز اور ٹھنڈی ہواؤں کے باعث بات سننے اور بات کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔
رپورٹر نے لکھا ہے کہ عام طور پر 20 منٹ میں طے ہونے والا فاصلہ آج ڈھائی گھنٹے میں طے کیا ہے۔ ہمیں متعدد چیک پوسٹوں سے گزرنا پڑا ہے جیسے ہم کسی جنگ زدہ علاقے میں آگئے ہیں۔
جوائنٹ بیس اینڈریوز میں مختصر الوداعی تقریر کے بعد ٹرمپ اور خاتون اول میلانیا ایئر فورس ون ہیلی کاپٹر میں سوار ہوکر فلوریڈا روانہ ہوگئے۔ جہاں وہ پام بیچ پر اپنے ریزارٹ میں قیام کریں گے جبکہ ایئر فورس ون ہیلی کاپٹر اس کے بعد میری لینڈ واپس آجائے گا۔ وہاں سے یہ ہیلی کاپٹر آنے والے صدر جو بائیڈن استعمال کرنا شروع کریں گے۔
جس وقت ٹرمپ کی الوداعی تقریب جاری تھی۔ اسی وقت نومنتخب صدر جو بائیڈن اور خاتون اول ڈاکٹر جِل بائڈن واشنگٹن ڈی سی میں واقع چرچ پہنچے جہاں انہوں نے عبادت کی اور لوگوں سے بات چیت کی۔

تبصرے بند ہیں.