سپریم کورٹ حکومت کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دے۔مریم نواز

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ اوپن بلیٹنگ کی ترمیم سینیٹ کا مسئلہ سپریم کورٹ اس میں پارٹی نہ بنے اور نہ ہی حکومت کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نوازشریف نے کہاہے کہ ہمیں20 پولنگ اسٹیشنزمیں دوبارہ الیکشن نہیں چاہیے بلکہ پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن چاہیے ، 6،6 گھنٹے پولنگ اسٹیشنزپرپولنگ معطل رہی،دھندکی آڑمیں پریذائیڈنگ افسران کو اغواکرلیاگیا،منظم دھاندلی کی گئی،ورکرزکوہراساں کیاگیا، پولنگ اسٹیشنز کوبند کرنے کیلیے فائرنگ کرائی گئی۔

مریم نواز نے کہا کہ پولنگ شام پانچ بجے ختم ہو جاتی ہے ساری رات کیسے ووٹنگ ہو تی رہی ، جو کہتے ہیں کہ مقامی سطح پر دھاندلی ہوئی تو ایسا کچھ بھی نہیں ،پی ایم ہاﺅس کے حکم کے بغیرایک سوئی بھی نہیں ہل سکتی ، دھند میں بندے اغواکرنا حکومت کا شیوہ ہے ۔الیکشن کمیشن میں ناقابل تردیدشواہدپیش کیے ہیں ،چیف الیکشن کمشنرڈسکہ کے عوام کو انصاف دیں، بائس کروڑ عوام الیکشن کمیشن سے انصاف کے منتظر ہیں ۔

نیوز کانفرنس کے دوران ہی مریم نواز کو حمزہ شہباز کی ضمانت کی خبر ملی جس پر انہوں نے رد عمل دیتے ہوئے شکر ادا کیا اور کہا کہ حمزہ شہباز کی ضمانت منظور ہو گئی ہے ، اللہ کا شکر ہے،حمزہ شہبازنے ہمت اوربہادری کےساتھ حالات کامقابلہ کیا ، حمزہ شہباز نے بڑی قربانیاں دیں اور مشکل وقت میں پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے ۔

براڈ شیٹ معاملے پر بات کرتے ہوئے مریم نواز کا کہناتھا کہ براڈشیٹ کوپہلے ہی روزفراڈشیٹ کہاتھا، براڈشیٹ کمپنی ان کورسوااور بے نقاب کررہی ہے،نوازشریف سے پیسے نکلوانے کے چکرمیں رقم دینی پڑی۔

لیگی رہنما نے کہا کہ ملک میں انصاف کے دو معیار اعلی عدلیہ پر دھبہ ہیں، اوپن بلیٹنگ کی ترمیم سینیٹ کا مسئلہ سپریم کورٹ اس میں پارٹی نہ بنے اور نہ ہی حکومت کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دے، اگرسپریم کورٹ نےحکومت کو کوئی ریلیف دیا تو فیصلہ یکطرفہ ہوگا، اعلیٰ عدلیہ کو ورٹ کوگندے کھیل میں گھسیٹنے پر حکومت کو بےنقاب کرتے رہیں گے۔

پرویز رشیدکے معاملے پر بات کرتے ہوئے مریم نواز کا کہناتھا کہ پرویزرشیدکے فیصلے نے انصاف کے 2 نظام کوثابت کردیا۔ان کا کہناتھا کہ بلاول بھٹوسے کل ملاقات ہوگی، میں نے انہیں دوپہر کے کھانے پر دعوت دی ہے ،بلاول سے مختلف ایشوزپربات چیت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں بغاوت ہوچکی ہے، عمران خان کو آج ہی سینیٹ انتخابات میں شفافیت کیوں یا د آئی ۔

 

تبصرے بند ہیں.