آقائے دو جہاںؐ نے الحسا کے گورنر کو دو مکتوب ارسال فرمائے

عارف انجم:
قسط نمبر 9
صلح حدیبیہ کے بعد جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خطوط کے ساتھ قاصد مختلف علاقوں کو بھیجنا شروع کیے تو موجودہ کویت سے لے کر موجودہ متحدہ عرب امارت کے علاقے راس الخیمہ تک کے قبائل کو دعوت پہنچانے کی ذمہ داری حضرت العلا الحضرمیؓ کو سپرد کی گئی۔ اس علاقے کو الحسا اور بحرین بھی کہتے تھے۔ العلاء کا تعلق یمن کے علاقے حضر موت سے تھا۔ لیکن آپ کے والد عبد اللہ حرب بن امیہ کے حلیف بن کر مکہ ہی میں مقیم ہو گئے تھے۔العلاء الحضرمیؓ کاتب وحی بھی تھے۔ اردو میں ان کا نام علاء بھی لکھا جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف علاقوں کے لیے قاصدوں کا انتخاب ان کی متعلقہ علاقوں اور وہاں کی زبان و ثقافت سے واقفیت کی بنا پر کیا تھا۔
الحساء کے حکمران المنذر بن ساویٰ کو ساسانی سلطنت (فارس) نے مقرر کیا تھا۔ کیونکہ الحسا ساسانی سلطنت کا صوبہ تھا۔ آتش پرستوں کی ساسانی سلطنت کا مرکز تو موجودہ ایران تھا۔ لیکن یہ بہت وسیع و عریض خطے پر پھیلی ہوئی تھی۔ ایک جانب موجودہ پاکستانی بلوچستان کے علاقے اس میں شامل تھے۔ تو دوسری جانب عراق، آرمینیا، ترکی اور لبنان تک کے خطے اس کا حصہ تھے۔جزیرہ نما عرب کے تمام مشرقی ساحلے علاقے بھی ساسانیوں کے تحت تھے۔ اس کے علاوہ یمن بھی انہی کے تحت تھا۔

جب حضرت العلا الحضرمیؓ نامہ مبارک لے کر المنذر بن ساویٰ تک پہنچے تو اس سے ایک برس قبل 627 عیسوی میں ساسانی سلطنت کا بدبخت حکمران خسرو پرویز (خسرو ثانی جسے کسریٰ بھی کہا جاتا ہے) اسی طرح کا ایک نامہ مبارک پھاڑنے کی ناپاک جسارت کر چکا تھا۔ خسرو پرویز کو اس گستاخی کے اگلے ہی برس اس کے بیٹے اور ایرانی امرا نے قتل کر دیا تھا۔ ابو بکر بیہقی کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کسریٰ کے مقتول ہونے کی خبر اس رات کی صبح دے دی۔ جس رات کسریٰ ماراگیا تھا۔ خسرو یا کسریٰ نے نامہ مبارک پھاڑنے کے ساتھ یمن کے گورنر باذن کو حکم دیا تھا کہ وہ (نعوذ باللہ) نبی اکرم ﷺ کو گرفتار کر کے لائیں۔ جب باذن کے دو آدمی مدینہ پہنچے اور بے باکانہ تقریر کی تو آپ ﷺ نے ان دو افراد کو بلاکر فرمایا کہ تم جاؤ، رات کسریٰ کو شیرویہ نے مار ڈالا۔ وہ دونوں اپنے حاکم باذان کے پاس گئے اور یہ خبر بیان کی۔ باذان نے کہا کہ اگر یہ خبر سچی ثابت ہوئی تو وہ واقعی پیغمبر ہیں۔ چنانچہ ان ہی دنوں شیرویہ کا خط باذان کے پاس پہنچا کہ کسریٰ پرویز ظالم تھا۔ اس لیے میں نے اس کو قتل کر ڈالا۔ باذان کو رسول اللہ ﷺ کی خبر صداقت معلوم ہوئی تو اپنے دو بیٹوں کے ساتھ مسلمان ہو گیا۔
یہ واضح نہیں کہ حضرت العلا الحضرمیؓ خسرو پرویز کے قتل سے پہلے المنذر بن ساویٰ کے پاس پہنچے یا بعد میں۔ تاہم المنذر بن ساویٰ نے نامہ مبارک ملتے ہی فوراً ہی اسلام قبول کرلیا۔ ان کے صوبے میں تین طرح کے مذاہب کے لوگ تھے۔ مقامی لوگ ایک بت اوال کی پرستش کرتے تھے۔ اس کے علاوہ آگ کو پوجنے والے زرتشی تھے۔ اور پھر یہودی تھے۔ منذر بن ساویٰ نے تو اسلام قبول کر لیا۔ لیکن ان کے صوبے میں بڑی تعداد میں لوگ بالخصوص زرتشی (مجوسی) اسلام قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ جس پر المنذر بن ساویٰؓ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خط لکھا۔ روایات کے مطابق اس خط کا متن یہ تھا: ’’اما بعد! یا رسول اللہ! میں نے آپ کا نام مبارک اہلِ بحرین کو سنایا۔ ان میں سے بعض نے اسلام کو پسند کیا اور اسلام انہیں اچھا لگا اور وہ اس میں داخل ہوئے۔ اور بعض نے اس کو پسند نہ کیا اور اس میں داخل نہیں ہوئے۔ میری مملکت میں یہود و مجوس رہتے ہیں۔ وہ اپنے مذہب پر قائم ہیں۔ ان کے بارے میں آپ اپنا حکم صادر فرمائیں‘‘۔
اس خط کے جواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو نامہ مبارک المنذربن ساویٰ کو ارسال فرمایا۔ وہ توپ کاپی میوزیم میں محفوظ ہے۔
المنذر بن ساویٰ کے قبول اسلام کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے العلا الحضرمیؓ کو جزیہ جمع کرنے کے لیے بحرین میں عامل مقرر کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے فوراً بعد ہی المنذر بن ساویٰ کا بھی انتقال ہوگیا۔ بحرین میں ارتداد کی وبا پھیل گئی۔ ربیعہ کا پورا قبیلہ اور بشر بن عمرو عبدری مع اپنے اتباع کے مرتد ہو گیا۔ نعمان بن منذر کا لڑکا منذر ان سب کا سرغنہ تھا۔ دوسری طرف بنی قیس بن ثعلبہ حطیم کی سرکردگی میں مرتد ہو گئے اور یہ سب کے سب بحرین کے ایک قلعہ جواث میں قلعہ بند ہو گئے۔ حضرت ابوبکرؓ کے حکم پر خلفیہ اول کی جانب سے بھیجی گئی جمیعت کے ساتھ العلا الحضرمیؓ نے قلعہ جواث کا محاصرہ کر لیا اور شب خون مار کر مرتدین کے سرکردہ حطیم اور منذر کو قتل کر ڈالا۔ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ منذر بچ کر نکل گیا۔
مرتدوں کے خلاف العلاء الحضرمیؓ کی مہم جاری تھی کہ خیلفہ اول حضرت ابو بکر صدیقؓ کا انتقال ہو گیا۔ حضرت عمرؓ کے خلیفہ بننے کے بعد باغی مطیع بنائے گئے۔ زرتشیوں کو جزیے کا پابند کیا گیا۔ بعد ازاں حضرت عمر نے العلاء الحضرمیؓ کو بصرہ کا گورنر مقرر کیا۔ تاہم منصب سنبھالنے سے پہلے ہی العلاء الحضرمیؓ انتقال کرگئے۔
بحرین میں آج بھی حضرت العلاء الحضرمیؓ کو ہیرو کا درجہ حاصل ہے۔ کئی سڑکیں اور اسکول ان سے منسوب ہیں۔ (جاری ہے)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گورنر الحساء المنذر بن ساویٰ کو دو مکتوب ارسال فرمائے تھے۔ المنذر بن ساویٰ ساسانی سلطنت (فارس) کے صوبے الحسا کے گورنر تھے۔ جسے بحرین بھی کہا جاتا تھا۔ تاہم یہ صوبہ صرف بحرین پر ہی مشتمل نہیں تھا۔ بلکہ عراق کا جنوبی حصہ، کویت، موجودہ سعودی عرب کے مشرقی ساحلی علاقے، بحرین اور متحدہ عرب امارات اس میں شامل تھے۔ یہ ایک بہت وسیع علاقہ تھا۔ جس میں علاقائی رہنماؤں کو نیم خود مختاری حاصل تھی۔ پہلا مکتوب ملنے پر المنذر بن ساویٰ فوراً اسلام لے آئے۔ آپ کا شمار تابعین میں ہوتا ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ مسجدِ نبوی کے بعد سب سے پہلے بحرین کی جامع مسجد میں جمعہ ادا کیا گیا۔ جو اثا شہر میں واقع تھی۔ (صحیح بخاری، کتاب الجمعہ)۔ تاہم المنذر بن ساویٰ کے علاقے میں بسنے والے تمام لوگوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔ اس پر المنذر بن ساویٰ نے خط لکھ کر نبی اکرم ﷺ سے رہنمائی چاہی۔
جواب میں آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرا مکتوب المنذر بن ساویٰ کو ارسال کیا۔ یہ خط توپ کاپی میوزیم میں محفوظ ہے۔ تقریباً تمام کتبِ سیرت و تاریخ میں اس کا ذکر ملتا ہے۔
اس نامہ مبارک کا اردو ترجمہ ذیل ہے۔
بِسمِ اللّہِ الرّحمٰنِ الرّحیم۔ اللہ کے رسول محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب سے منذر بن ساویٰ کے نام۔ سلام ہو تجھ پر۔ میں تجھ سے اس خدا کی حمد بیان کرتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اما بعد! میں تجھے اللہ عز و جل کی یاد دلاتا ہوں۔ جو نصیحت قبول کرتا ہے وہ اپنے فائدے کے لیے کرتا ہے۔ اور جس نے میرے قاصدوں کی پیروی کی اوران کی ہدایت پرعمل کیا تو اس نے بلاشبہ میری پیروی کی۔ اور جس نے ان کی خیر خواہی کی اس نے گویا میری خیر خواہی کی۔ اور میرے قاصدوں نے آکر تمہاری تعریف و توصیف کی اور میں نے تمہاری قوم کے بارے میں تمہاری سفارش قبول کی۔ پس وہ املاک مسلمانوں کے پاس چھوڑ دو، جن پر وہ اسلام لانے کے وقت قابض تھے۔ اور گنہگاروں سے درگزر کرتا ہوں۔ لہٰذا تم بھی ان سے (توبہ) قبول کرلو۔ اور جب تک تم اصلاحِ احوال کرتے رہو گے۔ ہم تمہیں معزول نہیں کریں گے۔ اور جو شخص اپنی یہودیت یا مجوسیت (آتش پرستی) پر قائم رہنا چاہے، اس پر جزیہ ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.