قربانی کے احکام و مسائل

٭…اگر کسی نے کسی کے جانور کو غصب کرکے قربان کر ڈالا تو قربانی ادا ہو جائیگی البتہ غاصب پر ضروری ہوگا کہ مالک کو جانور کی قیمت ادا کر دے۔
٭…جو جانور ناپاکی، غلاظت کھاتا ہے اس کے باندھنے (پابند رکھنے) سے پہلے اس کی قربانی جائز نہیں ہے، البتہ اگر چند روز کے لیے باندھ کر چارہ وغیرہ کھلایا جائے، کھلا اور آزاد پھرنے نہ دیا جائے تاکہ گندگی اورغلاظت میں منہ ڈالے تو اس کی قربانی درست ہے، اگر اونٹ ہے تو چالیس روز، گائے، بھینس، بیل وغیرہ کو بیس روز اور بکرا، بکری کو دس روز بند رکھ کر چارہ کھلایا جائے۔
٭…ذبح کیے ہوئے جانور کا گوشت حلال ہونے کیلئے ذبح کرنے والے کا مسلمان یا کتابی ہونا شرط ہے۔ غیر مسلم اور غیر کتابی کا ذبح کیا ہوا جانور حلال نہیں۔
٭…قربانی کے جانور سے فائدہ اٹھانا مکروہ ہے، اور صحیح قول کے مطابق مالدار اور غریب اس حکم میں برابر ہیں۔
٭…اگر کسی شہر میں فساد ہوگیا، اور نماز پڑھنا مشکل ہوگیا، اور لوگوں نے صبح صادق طلوع ہونے کے بعد ہی قربانی کرلی تو درست ہے۔
٭…اگر کسی فقیر نے اول وقت میں اپنی خوشی سے قربانی کی پھر آخری وقت میں مالدار ہوگیا۔ تو اس پر دوسری قربانی کرنی لازم ہوگی۔
٭…اگر کسی فقیر نے قربانی کی نیت سے جانور خرید لیا تو اس سے بھی قربانی ضروری اور واجب ہو جاتی ہے۔
٭…اگر ایک ملک والے دوسرے ملک میں قربانی کریں تو درست ہے، شرعاً اس میںکوئی قباحت نہیں، مگر بہتر یہ ہے کہ قربانی کا جانور خود پسند کرے، اس کی خدمت کر کے محبت کا تعلق پیدا کرے، کیونکہ یہ ایک بڑے ثواب کا ذریعہ بننے والا ہے یہی نہیں بلکہ اولاد کی قربانی کے قائم مقام ہے، اور مستحب یہ ہے کہ قربانی کے جانور کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرے، اگر خود ذبح نہ کر سکے تو ذبح کے وقت خود حاضر رہے۔ اور مستحب یہ ہے کہ اپنی قربانی میں سے کھائے، ہو سکے تو عید کے مبارک دن میں کھانے کی ابتداء اپنی قربانی کے گوشت سے کرے، اور پڑوسیِ عزیز و اقارب نیز غریبوں اور رشتہ داروں کو کھلائے دوسری جگہوں پر قربانی کرانے سے ان تمام برکتوں سے محروم ہو جاتا ہے، ہاں اگر کسی عذر یا شرعی مصلحت کی بنا پر دوسری جگہ یا دوسرے ملک میں قربانی کرائی جائے تو نہ صرف پورا ثواب ملے گا بلکہ زیادہ ثواب ملنے کی امید ہے، مثلاً دوسرے ملک میں رشتہ داروں کا حق ادا کرنے کے لئے قربانی کا انتظام کرنا یا وہاں کے لوگ زیادہ غریب اور محتاج ہیں، ایک ایک نوالے کے محتاج ہیں جیسا کہ موجودہ زمانہ میں افغانستان اور افریقہ کے بعض ممالک میں تو وہاں قربانی کرانے کیلئے پیسہ بھیج دینے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
٭…قربانی کے لئے جانور خریدنے کے بعد اس کو فروخت کرنا مناسب نہیں ہے، تاہم اگر فروخت کر کے دوسرا کم قیمت کا خریدا ہے تو اس میں جو نفع ہوا ہے وہ نفع صدقہ کردینا ضروری ہے۔
٭… اگر کسی آدمی پر قربانی واجب تھی اور اس نے قربانی کے لئے جانور خرید لیا، پھر وہ جانور گم ہوگیا، تو اس کی جگہ دوسری قربانی کرنا واجب ہے۔
٭… اگر دوسرے جانور کی قربانی کرنے کے بعد قربانی کے ایام میں پہلا جانور مل گیا تو اس جانور کی قربانی کرنا واجب نہیں ہے البتہ اس کی بھی قربانی کرنا بہتر ہے۔
٭… اگر یہ آدمی غریب ہے، اور اس پر قربانی واجب نہیں ہے، اور اس نے قربانی کی نیت سے جانور خرید لیا اور وہ گم ہوگیا پھر اس نے دوسرا جانور لیکر قربانی کی اور قربانی کے ایام میں گم شدہ جانور بھی مل گیا تو اس صورت میں گم شدہ جانور کو بھی قربان کرنا لازم ہوگا، کیونکہ غریب آدمی جب کوئی جانور قربانی کی نیت سے خریدتا ہے تو نذر کے حکم میں ہو جاتا ہے ، اور نذر کا پورا کرنا واجب ہے۔
٭…قربانی کا جانور خواہ پہلے سے متعین کر لیا جائے، خواہ قربانی کے ایام میں خرید لیا جائے دونوں صورتیں درست ہیں، لیکن اگر قربانی کے لئے جانور متعین کرنے والا یا قربانی کی نیت سے خریدنے والا صاحب نصاب نہیں، تو اس پر اسی جانور کی قربانی کرنا واجب ہو جاتا ہے، اور اگر وہ صاحب نصاب ہے اور قربانی کے دنوں سے پہلے اس نے جانور خریدا اور اسے بطور نذر قربانی کے لئے متعین کر لیا تو اس پر بھی اسی جانور کی قربانی واجب ہوگی، اور نصاب کی وجہ سے دوسری قربانی واجب ہوگی، اور اگر بطور نذر تعین نہ کیا تو اس کے ذمہ صرف ایک قربانی واجب رہے گی، اور اس جانور کی قربانی سے قربانی کی ذمہ داری ساقط ہو جائے گی۔
٭…کھانے کی چیز کے علاوہ کسی دوسری چیز کے بدلے میں قربانی کا گوشت دینا یا فروخت کرنا یا قصائی اور ملازم کی اجرت میں دینا جائز نہیں، اگر کسی نے ایسا کیا تو اس کی مقدار میں پیسے صدقہ کر دے۔
٭…قربانی کا گوشت پکانے کے بعد نوکر کو کھلانا جائز ہے، کیونکہ گوشت پکانے کے بعد قربانی کا حکم ختم ہو جاتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.