قبضہ مافیا کی سرپرستی جوہر آباد پولیس کو مہنگی پڑگئی

قبضہ گروپ کی سرپرستی جوہر آباد تھانے کی پولیس کو مہنگی پڑ گئی۔ ایس ایچ او غیور نے پیر آباد تھانے کی حدود بنارس کے علاقے میں ایک مکان سے قبضہ ختم کرا کے دوسری پارٹی کو دینے کے معاملات 50 لاکھ روپے میں طے کئے تھے اور دس لاکھ روپے پیشگی وصول کرلیے تھے۔ وہ اپنے تھانے کی حدود سے باہر دوسرے ضلع کی حدود میں چھاپہ مارنے پہنچا۔ اس کا مقصد عمارت میں مقیم افراد کو اٹھا کر تھانے لانے اور عمارت کا قبضہ اپنی پارٹی کے افراد کے حوالے کرنا تھا۔ مگر جائے وقوعہ پر معاملہ بگڑ گیا۔

عمارت میں مقیم افراد نے پولیس پارٹی اور اس کے ساتھ اپنے مخالفین کو دیکھتے ہی فائرنگ کر دی۔ جس کے بعد پولیس اوران افراد کے مابین فائرنگ کا تبادلہ کافی دیرتک جاری رہا جس میں تین افراد ہلاک، جبکہ ایک پولیس اہلکار سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔ ایس ایس پی ویسٹ کی خصوصی ہدایت پر ایس ایچ او جوہرآباد اور4 پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد کوگرفتارکرکے معاملے کی تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

26 جنوری کی شب پیر آباد تھانے کی حدود بنارس پل کے اطراف واقع آبادی اچانک گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے گونج اٹھی اور یہ سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا۔ ابتدا میں اسے پولیس مقابلہ قرار دیا گیا۔ لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ واقعہ ایک عمارت پر قبضے کی جنگ تھی۔ جس میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع وسطی میں موجود جوہر آباد تھانے میں تعینات ایس ایچ او غیور نے بنارس کے ایک رہائشی سعید تھلے والے جس کا کام بلاک بنانے کا ہے، کے ساتھ ایک ڈیل کی۔ جس میں غیور کو بنارس کے علاقے میں ایک مکان کو اس میں رہائش پذیر افراد سے خالی کرانا تھا۔ اس کے بدلے سعید تھلے والے نے ایس ایچ او کو پچاس لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا تھا اور ایڈاوانس میں دس لاکھ روپے دو دن پہلے دے دیئے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او جوہر آباد غیور نے وقوعہ والے روز اپنے قابل بھروسہ چار اہلکاروں پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی۔ جو پولیس موبائل اور سرکاری اسلحے سے لیس تھے۔ یہ تھانہ ضلع وسطی میں واقع تھا۔ جہاں سے پولیس ٹیم روانہ ہو رہی تھی اوران کی جانب سے جس علاقے میں کارروائی کرنا تھی، وہ تھانہ ضلع غربی کی حدود میں آتا تھا۔ غیورکی جانب سے تھانے میں ایک فرضی کیس کے حوالے سے انٹری کی گئی اور وہ اپنی ٹیم کو لے کر روانہ ہوا۔ بورڈ آفس کے قریب اس کی ملاقات سعید تھلے والے سے طے تھی۔

سعید نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ خود جانے کے بجائے اپنے چار لڑکے جو اس کے پاس کام کرتے تھے، حوالے کر دیے جنہوں نے پولیس اہلکاروں کو وہ عمارت دکھانا تھی جس میں مقیم افراد کو پولیس نے گرفتارکرکے جوہر آباد تھانے لانا تھا۔ پولیس ٹیم علاقے کی تھانے کو اطلاع دیئے بغیر چھاپہ مارنے کیلئے بنارس پل کے قریب واقع پشتون مارکیٹ پہنچ گئی۔

ذرائع کے بقول جو افراد پہلے سے عمارت میں مقیم تھے، انہیں کہیں سےعلم ہو چکا تھا کہ آج سعید تھلے والا ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس پر وہ لوگ تیار تھے۔ جدید ہتھیاروں سے لیس ان افراد کا تعلق بھی قبضہ گروپ سے تھا۔ پولیس ٹیم جب سعید کے لڑکوں کے ساتھ عمارت کے پاس پہنچی تو وہاں مورچہ بند افراد نے پولیس کے ساتھ سعید تھلے والے کے لڑکوں کو دیکھتے ہی اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ جس کے جواب میں پولیس کی جانب سے بھی فائرنگ کی گئی اوریہ سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا۔ جس کے نتیجے میں پولیس کے ساتھ آئے تین افراد عبداللہ، یارگل اورشبیر موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ جبکہ فائرنگ کی زد میں آکر ایک پولیس اہلکارکامل عباسی اورایک شخص افتخار شاہ زخمی ہو گئے۔

اس واقعے کے بعد جب علاقہ پولیس موقع پر پہنچی تو وہاں موجود ایس ایچ او غیور کی جانب سے علاقہ پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ غیور کی جانب سے پہلا بیان پولیس کو یہ دیا گیا کہ وہ ڈاکوئوں کا پیچھا کرتا ہوا یہاں پہنچا تھا۔ جس پر ڈاکوئوں نے ان پر فائرنگ کردی مگر کچھ ہی دیر بعد اصل کہانی کھل کر سامنے آگئی۔ جس کے بعد ایس ایچ او جوہر آباد غیور، اس کے قابل اعتماد چار اہلکاروں اور فائرنگ کرنے والے تین ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔

عمارت سے فائرنگ کرنے والا ایک ملزم نثار شاہ خیبرپختونخوا پولیس کا برطرف اہلکار ہے اور وہ اینٹی ٹیررسٹ اسکواڈ کا ماہر نشانہ باز بتایا جاتا ہے۔ ان 8 افراد کی گرفتاری کے بعد پولیس کی جانب سے سعید تھلے والے اور مخالف گروپ کے سربراہ سلمان کو بھی گرفتارکرلیا گیا ہے۔ جس کے بعد گرفتاریوں کے تعداد 10 ہو گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ خونی کھیل بھاری رقم کی لالچ میں پیش آیا۔ جبکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایس ایچ او غیور کی جانب سے جو انٹری اپنے تھانے میں روانگی سے قبل ڈالی گئی تھی، وہ بھی جعلی ثابت ہوئی ہے۔ جس کے بعد آخری اطلاعات آنے تک ایس ایچ او غیور سمیت دیگر ملزمان پر قتل، اقدام قتل سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمات درج کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی۔

اس واقعے میں ہلاک ہونے والے عبداللہ کے لواحقین کا کہنا ہے کہ سعید تھلے والے نے عبداللہ کو بیٹا بنایا ہوا تھا۔ وہ حافظ قرآن اور نابینا تھا۔ اسی طرح مقتول یارگل کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ سعید تھلے والے نے ہمارے بھائی کو اپنے مذموم مقاصد کیلیے استعمال کیا۔ اس کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اسے کہا گیا تھا کہ پولیس کو وہ گھر دکھا دو،جس پر جھگڑا چل رہا ہے اور یہ اپنے مالک کی باتوں میں آکر پولیس کے ہمراہ اس جگہ پر جا پہنچا اوراوپر بیٹھے افراد کی فائرنگ کی زد میں آکر مارا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والا عبداللہ سعید تھلے والا کا بھانجا بتایا جاتا ہے۔ واقعے کے حوالے سے ایس ایس پی ویسٹ انوسٹی گیشن عابد قائم خانی کا کہنا ہے کہ اب تک کی جانے والی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایس ایچ او جوہر آباد غیور اپنے ذاتی مقاصد کیلیے وہاں گیا تھا اوراس نے اپنے اختیارات کا مکمل ناجائز فائدہ اٹھایا۔ اسی لیے اسے فوری طور پر معطل کردیا گیا ہے اوراس کے اور دیگر افراد کے خلاف مقدمات کا اندراج جلد کیا جائے گا۔ اس کیس کو تفتیشی افسران باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں تاکہ اصل ملزمان اوران کے سہولت کاروں کا تعین کر سکیں اور جو لوگ بھی اس سنگین واقعے میں ملوث ہوں، انہیں عدالت سے قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.