نفرت انگیز تقریر:الطاف حسین کو 5سال قید ہو سکتی ہے

امت رپورٹ:
ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کے خلاف تقریباً ایک ہفتے بعد دہشت گردی ایکٹ کے تحت نفرت انگیز تقریر کیس کی باقاعدہ سماعت شروع ہونے جارہی ہے۔ اس حوالے سے ان پر فرد جرم پہلے ہی عائد کی جا چکی ہے۔ اس کیس میں مجرم ثابت ہونے والے کسی بھی فرد کو پانچ برس تک قید اورلامحدود جرمانے کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ اگست دو ہزار سولہ میں الطاف حسین نے لندن سے بذریعہ ٹیلی فون کراچی تقریر کی تھی۔ اس نفرت انگیز تقریرکے نتیجے میں مشتعل ہجوم نے ایک میڈیا ہائوس کی عمارت پر دھاوا بول دیا تھا۔ عمارت پر پتھرائو کے ساتھ ہوائی فائرنگ بھی کی گئی تھی۔ اس ہنگامے میں عارف سعید نامی ایک بے گناہ نوجوان مارا گیا تھا، جبکہ پانچ دیگر افراد زخمی ہوئے تھے۔ بعدازاں متعلقہ تھانے میں الطاف حسین کے اکسانے کے نتیجے میں ہونے والی ہنگامی آرائی اور قتل کی ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ جس پر برطانوی حکام نے اپنی تفتیش کا آغاز کیا تھا، کیونکہ بانی متحدہ نے لندن سے یہ تقریر کی تھی۔
لندن میٹروپولیٹن پولیس کئی برس تک اس کیس کی تفتیش کرتی رہی۔ اس سلسلے میں برطانوی حکام نے کراچی آکر بھی شواہد اکٹھے کیے اور متاثرین سے ملاقاتیں کر کے ان کے بیانات بھی ریکارڈ کیے۔ جبکہ مزید شواہد فراہم کرنے کے لیے پاکستانی حکام نے بھی لندن کا دورہ کیا تھا۔

آخرکار اکتوبر دو ہزار انیس کو اس کیس میں الطاف حسین کے خلاف لندن میں فرد جرم عائد کر دی گئی تھی۔ اڑسٹھ سالہ الطاف حسین پر دہشت گردی ایکٹ دو ہزار چھ کے تحت سنگین جرائم ایکٹ دو ہزار سات کے سیکشن چوالیس کے خلاف جرائم کی جان بوجھ کر حوصلہ افزائی یا مدد کرنے کے حوالے سے فرد جرم عائد کی تھی۔ جس کے بعد الطاف حسین کے خلاف کیس کی باقاعدہ سماعت شروع ہونی تھی۔ تاہم لندن میں کووڈ نائنٹین (کورونا) کے باعث لگنے والی پابندیوں کے باعث اس کیس کا باقاعدہ ٹرائل تاخیر کا شکار ہوتا رہا۔ اس کیس کے معاملات سے آگاہ لندن میں موجود ایک ذریعے کے بقول کورونا ایک طرف لوگوں پر عذاب بن کر اترا ہوا تھا تو وہیں یہ خطرناک وائرس الطاف حسین کو اس مقدمے سے بچانے کا باعث بھی بنتا رہا کہ ایک بار کیس کا آغاز ہونے کے بعد فیصلے میں زیادہ عرصہ نہیں لگتا۔ اپنی بیماری کو لے کر اس صورت حال کا بانی متحدہ نے پورا فائدہ اٹھایا۔ کیس کی باقاعدہ سماعت دوبارہ ملتوی کی گئی۔ پہلی بار کیس کے ٹرائل کے لیے یکم جون (دو ہزار بیس) کی تاریخ مقرر ہوئی تھی۔

بعدازاں اس میں توسیع کر کے جولائی کا مہینہ مقرر کیا گیا تھا۔ لیکن ٹرائل کا آغاز نہ ہو سکا۔ اپنی بیماری اور کورونا کو جواز بناتے ہوئے الطاف حسین کی خواہش تھی کہ مقدمے کی سماعت غیر معینہ مدت تک مؤخر کرا دی جائے۔ اس حوالے سے بانی متحدہ کو ابتدا میں ضرور کامیابی ملی۔ تاہم جب عدالت نے کیس کے حتمی ٹرائل کے لیے اکتیس جنوری دو ہزار بائیس کی تاریخ مقرر کی تو آخرکار تمام کوششیں ناکام ہو گئیں۔ بعدازاں ایک اور کوشش کے طور پر قریباً پونے دو ماہ قبل الطاف حسین نے اپنے وکیل کے توسط سے درخواست جمع کرائی کہ وہ جنوری دو ہزار بائیس میں دہشت گردی ایکٹ کے تحت نفرت انگیز تقریر کے کیس کا سامنا کرنے کے لیے جسمانی اور ذہنی طور پر فٹ نہیں ہیں۔ لہٰذا اس سماعت کو مؤخر کیا جائے۔ تاہم کرائون پراسیکیوشن سروس نے بانی ایم کیو ایم کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ اس سے قبل اپنی جسمانی اور ذہنی بیماریوں کو جواز بناتے ہوئے الطاف حسین نے اس مقدمے کو یکسر ختم کرنے کی درخواست بھی دی تھی۔ لیکن یہ درخواست بھی رد کر دی گئی تھی۔
لندن میں موجود کرائون پراسیکیوشن سروس سے راہ و رسم رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں الطاف حسین کے بچنے کے امکانات کم ہیں۔ کیونکہ کرائون پراسیکیوشن سروس اس وقت تک فرد جرم عائد کرنے کی اجازت نہیں دیتی، جب تک وہ پولیس کی تفتیش اور ملزم کے خلاف حاصل کردہ شواہد سے مطمئن نہ ہو جائے۔ جب کرائون پراسیکیوشن سروس کو سو فیصد یقین ہو جاتا ہے کہ پولیس کی تفتیش اور جمع کیے گئے شواہد اس قدر ٹھوس ہیں کہ ملزم کسی صورت سزا سے نہیں بچ پائے گا، تب ہی فرد جرم عائد کی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کا ادراک خود الطاف حسین کو بھی ہے، اسی لیے کیس کے ٹرائل کو غیر معینہ مدت تک مؤخر کرانے کی مسلسل کوششیں کی جاتی رہیں۔ اس سلسلے میں ان کے وکیل نے بھی انہیں زمینی حقائق سے آگاہ کر دیا ہے۔
اس سارے معاملے پر بات چیت کے لیے ’’امت‘‘ نے لندن میں پچھلے کئی برسوں سے پریکٹس کرنے والے معروف قانون ںداں بیرسٹر امجد ملک سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا ’’مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع ہونے کے بعد فیصلہ سنانے میں دو سے تین ہفتے لگ سکتے ہیں۔ اگر پھر کوئی انہونی نہیں ہوئی اور کیس کا باقاعدہ ٹرائل اعلان کردہ اکتیس جنوری سے شروع ہو جاتا ہے تو پہلے مرحلے میں استغاثہ (کرائون پراسیکیوشن سروس) جیوری کے سامنے ملزم کے خلاف حاصل ثبوت اور واقعاتی شہادتیں پیش کرے گا۔ ان شواہد کی روشنی میں وہ اپنے دلائل سے ثابت کرنے کی کوشش کرے گا کہ اگست دو ہزار سولہ کو لندن سے کراچی میں کی جانے والی تقریر میں الطاف حسین نے واقعی ایسے نفرت انگیز الفاظ استعمال کیے، جس کے نتیجے میں لوگوں میں اشتعال پھیلا، تشدد نے جنم لیا اور ایک بے گناہ شخص کی جان چلی گئی۔ استغاثہ سماعت کے دوران ثبوت کے ساتھ اپنی گواہیاں بھی پیش کرے گا۔ جس افسر نے کیس کی تفتیش کی ہے، وہ بھی گواہی کے لیے پیش ہو گا اور ملزم کے خلاف پاکستان سے حاصل ہونے والی واقعاتی شہادتیں بھی دے گا۔ جس فرد نے الطاف حسین کی اردو تقریر کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے۔ وہ بھی کرائون کورٹ میں پیش ہو گا۔ بعد ازاں ملزم کے وکیل کی باری ہو گی۔ وہ اپنے موکل کی بے گناہی کے لیے اپنے گواہ پیش کرے گا اور دلائل دے گا۔‘‘
بیرسٹر امجد ملک کے بقول اس سارے عمل کو مکمل ہونے میں دو سے تین ہفتے لگ جاتے ہیں۔ جس کے بعد جیوری اپنا فیصلہ سناتی ہے۔ اگر ملزم پر جرم ثابت ہو جائے اور اسے سزا سنا دی جائے تو اس کے پاس اپیل کرنے کا حق ہوتا ہے۔ اس کے لیے وہ دس سے چودہ دن کے اندر کورٹ آف اپیل سے رجوع کر سکتا ہے۔ جہاں تین جج اپیل سنتے ہیں۔ یوں جیوری کی طرف سے سزا سنائے جانے اور اس کے بعد اپیل کے عمل میں مجموعی طور پر عموماً چھ ماہ کا عرصہ لگ جاتا ہے۔
دہشت گردی ایکٹ کے تحت چلنے والے اس کیس میں اپنے دفاع کے لیے الطاف حسین نے مہنگا ترین وکیل کیا ہے۔ ان کے وکیل جوئل بیناتھن ’’کیو سی‘‘ ہیں۔ اس بارے میں بیرسٹر امجد ملک نے بتایا کہ ’’کیو سی‘‘ کوئین کونسل کا مخفف ہے۔ جس طرح پاکستان میں سینئر ایڈووکیٹ ہوتا ہے۔ اسی طرح برطانیہ میں بیس سال سے زیادہ عرصہ پریکٹس کرنے والے وکیل کو ملکہ برطانیہ کی جانب سے بہترین قانونی ماہر قرار دے کر کوئین کونسل بنا دیا جاتا ہے۔ اس کی منظوری وزارت قانون اور سفارش لارڈ چانسلر کرتا ہے۔

بیرسٹر امجد ملک نے بتایا کہ کرائون پراسیکیوشن سروس کی جانب سے بھی ایک کوئین کونسل استغاثہ کا کیس لڑیں گے۔ اس سوال پر کہ کرائون پراسیکیوشن سروس کسی ملزم کے خلاف فرد جرم عائد کرنے میں حد درجہ کیوں برتتی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ کرائون پراسیکیوشن سروس تفتیش کا یہ عمل اس لیے ضروری ہے کہ اگر چارج کیے جانے والے کسی ملزم کے خلاف کورٹ میں جرم ثابت نہ کیا جا سکے اور وہ سزا سے بچ نکلے تو اس کے وکیل کی فیس اور تمام اخراجات کے ساتھ اسے سرکاری کمپن سیشن فنڈ سے رقم بھی ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس طرح سرکاری خزانے پر بوجھ پڑتا ہے اور استغاثہ کی بدنامی بھی ہوتی ہے۔

الطاف حسین کے خلاف سیریس کرائم ایکٹ دو ہزار سات کے سیکشن چوالیس کی خلاف ورزی پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ اس ایکٹ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جرم ثابت ہونے پر ملزم کو پانچ برس تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ ایکٹ میں کہا گیا ہے کہ مجسٹریٹ کی عدالت میں جرم ثابت ہونے پر چھ ماہ تک قید اور پانچ درجے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ تاہم کرائون کورٹ میں فرد جرم ثابت ہونے پر کسی بھی فرد کو پانچ سال تک قید اور لامحدود جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ الطاف حسین کے خلاف مقدمے کی سماعت کرائون کورٹ میں ہو گی۔ اس بارے میں بیرسٹر امجد ملک کا کہنا ہے کہ سزا دیتے وقت ملزم کی صحت اور ذہنی حالت کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔ عموماً اس نوعیت کے کیسوں میں دو برس سے لے کر پانچ برس تک قید کی سزا سنائی جاتی ہے۔