ایران جنگ لائیو اپ ڈیٹس 16 اپریل سے 20 اپریل
ایران امریکہ تنازعے پر لائیو اپ ڈیٹس
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو دو ہفتے کی جنگ بندی میں توسیع کا امکان بہت کم ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو میں ترمپ کا کہنا تھا کہ جب تک معاہدہ نہیں ہوتا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب امریکی خبر رساں ادارے پی بی ایس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہو گئی تو ’بہت سارے بم پھٹنا شروع ہو جائیں گے۔
یاد رہے کہ رواں ماہ آٹھ تاریخ کو ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی ہوئی تھی۔
اسلام آباد/ واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس منگل کو ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچیں گے۔ اس وفد میں صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور مشیر جیرڈ کشنر اور امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی شامل ہیں۔
یہ دورہ پاک-امریکہ تعلقات اور خطے کی صورتحال، بالخصوص ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات کا دوسرا دور ہوگا، جس میں اسلام آباد ایک اہم سہولت کار (Back-channel) کا کردار ادا کر رہا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ سوشل میڈیا پیغامات میں ایران کے حوالے سے متضاد موقف اپنایا ہے، جس نے تہران میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے بیانات میں جہاں ایک طرف ایران کے لیے “سنہری موقع” کی بات کی، وہیں دوسری طرف یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ ایران میں “حکومت کی تبدیلی” (Regime Change) کے مقصد میں کامیاب ہو چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت ایک ایسی دہلیز پر کھڑا ہے جہاں وہ بہتری کی طرف جا سکتا ہے، تاہم ان کے اس لہجے کو ایرانی حکام نے “دھمکی آمیز” قرار دیا ہے۔
عالمی سطح پر اس وقت یہ تاثر ہے کہ” اسلام آباد ٹاکس 2.0”کو اب صرف ایک شخصیت یقینی بناسکتی ہے اور وہ پاک فوج کے سربراہ ، چیف آف ڈیفنس فورسزفیلڈمارشل عاصم منیر ہیں۔ ایک پاکستانی عہدیدار کے حوالے سے جرمن نشریاتی ادارے نے کہا ہے کہ ایسے حالات میں فیصلے سیاسی قیادت نہیں بلکہ فوجی قیادت کرتی ہے۔اس عہدیدار کے مطابق عاصم منیر کے ایران کے حالیہ دورے کا دونوں فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار انتہائی اہم ہے۔
پاکستانی اہلکار نے مزید کہا، وہ واحد شخصیت ہیں جو ایرانی قیادت کو معاہدے پر آمادہ کر سکتے ہیں، اور اس کی وجہ دونوں طرف موجود اعتماد کی اونچی سطح ہے۔
نشریاتی ادارے نے یہ بات اس پیش رفت کے حوالے سے رپورٹ کی ہے جس کے مطابق فیلڈمارشل عاصم منیر اور امریکی صدرکے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔
بیروت: لبنان میں 10 روزہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیلی فوج کی جانب سے جارحیت کا سلسلہ نہ رک سکا، جنوبی لبنان کے 4 قصبوں پر تازہ فضائی حملوں نے امن کی کوششوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (NNA) کے مطابق، اسرائیلی ڈرون طیاروں اور توپ خانے نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔
اسرائیلی ڈرون نے دریائے لیطانی کے قریبی علاقے کو نشانہ بنایا، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔صور (Tyre) کے علاقے میں واقع قصبے شماع پر بھی بمباری کی اطلاعات ملی ہیں۔
مرجعیون کے سرحدی علاقوں میں اسرائیلی فورسز نے شدید گولہ باری کی، جس میں طیبہ، القصیراور القنطرہ کے درمیانی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔
لبنانی حکام کی جانب سے ان حملوں کو جنگ بندی کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب عالمی سطح پر خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان سفیروں کی سطح پر مذاکرات کا دوسرا دور جمعرات کو واشنگٹن میں منعقد ہوگا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ امریکہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے ان مذاکرات کی میزبانی کرے گا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ 14 اپریل سے شروع ہونے والی “تعمیری بات چیت” کا خیرمقدم کرتا ہے اور دونوں حکومتوں کے درمیان “خلوصِ نیت” پر مبنی بات چیت کی سہولت فراہم کرنا جاری رکھے گا۔
واضح رہے کہ ان مذاکرات کا مقصد دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنا اور باہمی تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنا ہے۔ امریکہ ان مذاکرات میں بطور ثالث کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
تہران: ایران نے دارالحکومت تہران کے دو بڑے ایئرپورٹس آج سے دوبارہ کھول دیے۔
ایرانی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایرانی شہری ہوابازی کے ادارے نے تہران کے خمینی اور مہرآباد ایئر پورٹ پر فلائٹ آپریشن کی بحالی کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق دونوں ایئرپورٹس سے آج سے معمول کے فلائٹ آپریشن شروع کردیں گے۔
ایرانی میڈیا رپورٹ کے مطابق امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بین الاقوامی جبکہ مہرآباد ہوائی اڈے سے اندرون ملک اور سفارتی پروازیں اڑان بھریں گی۔
ابو ظہبی: اماراتی ریاستی سلامتی کے ادارے نے کہا ہے کہ دہشتگرد تنظیم کے متعدد ارکان کو حراست میں لے لیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق ابوظبی سے بیان میں متحدہ عرب امارات کے اسٹیٹ سیکیورٹی حکام نے کہا ہے کہ ملزمان دہشتگردی اور تخریب کاری کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
اس حوالے سے جاری اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ تحقیقات سے تنظیم کا ایران میں ولایت فقیہ سے تعلقات کا انکشاف ہوا۔
اعلامیہ کے مطابق تنظیم کے ارکان کے دہشت گرد عناصر کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں اور روابط تھے۔ بیان کے مطابق ملزمان نے غیر قانونی جمع رقم مشکوک غیر ملکی اداروں کو منتقل کی۔
ماسکو: روس کا کہنا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات میں ثالث نہیں ہے لیکن ضرورت پڑنے پر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
روسی حکومت کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال بہت نازک اور عملی طور پر غیر متوقع ہے۔
روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق، پیسکوف کا کہنا ہے کہ روس کو امید ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے حوالے سے مذاکراتی عمل جاری رہے گا اور دوبارہ طاقت کا استعمال شروع نہیں کیا جائے گا۔
’ہمیں امید ہے کہ مذاکراتی عمل جاری رہے گا جس سے فوجی کارروائیوں کو روکنا ممکن ہو گا کیونکہ اس سے علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت پر بہت زیادہ منفی اثرات مرتب ہوں گے۔‘
روسی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ماسکو نے اب تک مشرق وسطیٰ کے حوالے سے ہونے والے مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا نہیں کیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ماسکو فریقین کو کسی معاہدے تک پہنچنے میں مدد کرنے کے لیے کردار ادا کر سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ روس متعدد مواقع پر پہلے بھی کہہ چکا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ہم پرامن حل کی تلاش اور متعلقہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے کوئی بھی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ’جنگ سے کسی کو فائدہ نہیں ہوتا، اور خطرات کے خلاف ڈٹے رہتے ہوئے، کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر منطقی اور سفارتی راستہ استعمال کیا جانا چاہیے۔‘
سوموار کے روز وزارت انصاف کے دورے کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایرانیوں کو ’ملک کے حقائق سے آگاہ رکھا جانا چاہیے۔‘
’غلط معلومات یا غیر حقیقی وعدے نہ صرف مسائل کو حل کرنے میں کوئی مدد فراہم نہیں کرتے بلکہ اس کے نتیجے میں عوامی اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔‘
پزیشکیان کا کہنا ہے کہ ’کامیابیوں اور چیلنجز دونوں کو ایمانداری سے عوام کے سامنے رکھنا چاہیے۔‘
بیروت: لبنان نے اسرائیل سے بات چیت کے لیے اپنا مندوب نامزد کر دیا۔
لبنانی صدر کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ بات چیت کی قیادت سابق سفیر سائمن کرم کریں گے۔سائمن کرم امریکہ میں لبنان کے سفیر رہ چکے ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر جاری حملوں میں اب تک 2 ہزار سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 10 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں زمینی کارروائی بھی شروع کر رکھی ہے، جس کا مقصد مزید علاقوں پر قبضہ اور ایک مبینہ بفر زون قائم کرنا بتایا جا رہا ہے۔
تل ابیب: اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسی کے مجسمے کو نقصان پہنچانے کے عمل کی ’شدید ترین الفاظ میں مذمت‘ کی ہے۔
نتن یاہو کا بیان اس تصویر کے آن لائن وائرل ہونے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایک اسرائیلی فوجی کو ہتھوڑے سے حضرت عیسی کے ایک مجسمے پر وار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ کہ وہ اور ’اسرائیلیوں کی بھاری اکثریت‘ اس واقعے کی بارے میں جان کر ’دلبرداشتہ‘ ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ فوجی حکام اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور ذمہ دار فوجی کے خلاف ’سخت تادیبی کارروائی‘ کی جائے گی۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم کا مزید کہنا کہ ’اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں واحد مقام ہے جہاں تمام مذاہب کے لیے عبادت کی آزادی کو برقرار رکھا جاتا ہے۔ ہم اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور اس سے پہنچنے والی کسی بھی تکلیف پر معذرت خواہ ہیں۔‘
بیروت: لبنان میں جنگ بندی کے معاہدے کو ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود صورتحال کشیدہ ہے۔ لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کے اعلیٰ معاون اور سینیئر سیاستدان علی حسن خلیل نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے جنگ بندی کے آغاز سے اب تک جنوبی لبنان کے 39 دیہات میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔
علی حسن خلیل کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے کیے جانے والے زوردار دھماکوں کے نتیجے میں جنوبی لبنان کے سرحدی علاقوں میں شہریوں کے گھروں کو منظم طریقے سے ملبے کا ڈھیر بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے ان کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا شہری گھروں اور دیہاتوں کو اس طرح نشانہ بنانا ایک واضح جنگی جرم ہے، جو عالمی قوانین اور جنگ بندی کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
دوسری جانب، اسرائیلی فوج (IDF) نے ان الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی کارروائیاں حزب اللہ کے اس عسکری انفراسٹرکچر کے خلاف ہیں جو سرحدی علاقوں میں موجود ہے۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف ان ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو مستقبل میں اس کے شہریوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
لبنانی حکام کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل معاہدے کی آڑ میں زمین دوز کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
بیجنگ: چین کے صدر شی جن پنگ اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی صدر نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی معمول کے مطابق آمد و رفت برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ چین فوری اور جامع جنگ بندی کی حمایت کرتا ہے۔مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کو سیاسی اور سفارتی ذریعے سے حل کیا جائے۔
واضح رہے کہ ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ دوسرے دور کے مذاکرات کے لیے ایرانی وفد پاکستان نہیں جائے گا۔ امریکہ کی جنگ بندی کی خلاف ورزی سے پاکستانی ثالث کو آگاہ کر دیا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے امریکہ سے جنگی مالی امداد طلب کر لی ۔ امریکی میڈیانے کہا ہے کہ اماراتی حکام نے وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ سے بات کی کہ اگر مشرق وسطیٰ کا تنازع طول پکڑ گیا تو ڈالر تک رسائی کیسے ممکن بنائی جائے۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق،متحدہ عرب امارات نے امریکہ سے مالیاتی بیک اپ حاصل کرنے کے لیے بات چیت شروع کر دی ہے، تاکہ اگر ایران کی جنگ تیل سے مالا مال خلیجی ریاست کو مزید گہرے بحران میں ڈال دے تو اس کا سامنا کیا جا سکے۔
متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک کے گورنر خالد محمد بالاما نے گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں میںسکاٹ بیسنٹ اور امریکی خزانہ اور فیڈرل ریزرو کے حکام کے ساتھ کرنسی سواپ لائن(مالیاتی تبادلے کی لائن) کا خیال پیش کیا۔اماراتی حکام نے زور دیا کہ اب تک جنگ کے بدترین معاشی اثرات سے بچا جا سکا ہے، لیکن اگر ضرورت پڑی تو مالیاتی لائف لائن (امدادی سہولت) درکار ہو سکتی ہے۔
اماراتی حکام نے ابھی تک سواپ لائن کی کوئی رسمی درخواست نہیں کی ۔ یہ سواپ لائن متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک کو سستے نرخوں پر ڈالر حاصل کرنے کی سہولت دے گی، تاکہ کرنسی کو سپورٹ کیا جا سکے یا غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنایا جا سکے، خاص طور پر اگر لیکویڈیٹی کا بحران پیدا ہو جائے۔
بات چیت کے دوران انہوں نے اس تجویز کو ابتدائی اور احتیاطی اقدام قرار دیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق ایران کے تقریباً 95 فیصد ہوائی اڈوں کا انفراسٹرکچر محفوظ اور فعال ہے۔
ایئرلائنز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ 20 طیاروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کمرشل پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود دوبارہ کھولنے کی تیاری کر رہا ہے۔

سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں مارکیٹ میں “بہت زیادہ اتار چڑھاؤ” دیکھنے کو مل سکتا ہے، جس کے باعث مالی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی اقتصادی اور سیاسی حالات کے باعث سرمایہ کاری کے رجحانات متاثر ہو سکتے ہیں، اور اسی وجہ سے سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔
امریکی سینٹ کام نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی مال بردار جہاز پر حملے کی ویڈیو جاری کردی۔ عملےکو انجن روم خالی کرنے کا کہہ کر جہاز پر فائرنگ کی گئی۔ بعد میں امریکی اہلکاروں نے اسے قبضے میں لے لیا۔
اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے ممکنہ دور سے فوری پہلے اس حملے نے معاملات بگاڑ دیئے… pic.twitter.com/gXZS6Jyahn— Daily Ummat (@ummatdigitalpk) April 20, 2026
ایران نے جنگ کے دوران نقصان اٹھانے والی سرکاری عمارتوں کی فروخت یا تبادلے کی اجازت دے دی ہے۔ فارس خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس حوالے سے نیا حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔
اس ہدایت کے تحت سرکاری اداروں کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ان عمارتوں کے مستقبل کا فیصلہ کریں جو یا تو ناقابلِ تعمیر ہو چکی ہیں یا شدید نقصان کا شکار ہیں۔
امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ایرانی مال بردار بحری جہاز پر قبضہ کر لیا ہے جو امریکی ناکہ بندی توڑ کر گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی فوج کے خاتمے الانبیاء ہیڈکوارٹرز نے انتقام لینے کی دھمکی دی ہے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی و ریڈیو کے مطابق ایران نے امریکی جنگی جہازوں پر ڈرون حملے کیے ہیں
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کی تازہ خبر یہ ہے کہ تہران نے مذاکرات کیلئے وفد اسلام آباد بھیجنے کا اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
تہران: ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے پاکستان میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور سے متعلق رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ خبر درست نہیں‘ تاہم ایجنسی نے اس حوالے سے کسی سرکاری ادارے یا فرد کا حوالہ نہیں دیا۔
ارنا کے مطابق امریکہ نے ’غیر ضروری اور حد سے زیادہ مطالبات‘ کیے ہیں، اپنے مؤقف کو بار بار تبدیل کیا ہے۔
ارنا کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور دھمکی آمیز بیانات مذاکرات کی پیش رفت میں رکاوٹ کا سبب ہیں۔
ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایسی صورتحال میں بامعنی مذاکرات کے امکانات روشن نظر نہیں آتے۔‘
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک دو میڈیا اداروں نے بھی ایران کی ممکنہ شرکت پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ایرانی حکام مذاکرات میں شریک ہوں گے یا نہیں اور کسی نامزد اہلکار نے ایران کے مؤقف کی باضابطہ وضاحت نہیں کی۔
واشنگتن: امریکی میڈیا نے ذرائع سے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے منگل کو اسلام آباد پہنچنے کی خبر چلادی۔
امریکی چینل نے ایرانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم امریکا سے مذاکرات کےلیے منگل کو پاکستان پہنچے گی۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم پہلے مرحلے میں شامل ارکان پر ہی مشتمل ہوگی، جو توقع کر رہے ہیں کہ بدھ کو جنگ بندی میں توسیع کا علامتی مشترکہ اعلان ہوگا۔
امریکی چینل نے رپورٹ کیا کہ معاملات ٹھیک رہے اور ٹرمپ پاکستان جانے پر راضی ہوئے تو ایرانی صدر بھی پاکستان جائیں گے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی اور ایرانی صدور پاکستان گئے تو ان کا اجلاس ہوگا، جس کے بعد مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے جائیں گے۔
امریکی چینل نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ایران کی جانب سے باضابطہ طور پر وفد بھیجنے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
واشنگٹن: ایران کا ایک اعلیٰ سطحی وفد منگل کے روز پاکستان پہنچے گا جہاں وہ امریکہ کے ساتھ اہم مذاکرات میں شرکت کرے گا۔
ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وفد کی تشکیل گزشتہ مذاکراتی دور جیسی ہی ہونے کی توقع ہے، جس میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف شامل تھے۔
سی این این کے مطابق ایرانی حکام کو امید ہے کہ بدھ کے روز جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے ایک علامتی مشترکہ اعلان کیا جائے گا، جو دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی کی طرف ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
مزید یہ کہ اگر مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھتے ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسلام آباد آنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں تو ایرانی صدر بھی پاکستان کا دورہ کریں گے، جہاں دونوں ممالک کے صدور کی ایک مشترکہ ملاقات متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ممکنہ ملاقات کے دوران “اسلام آباد ڈیکلریشن” پر دستخط کیے جا سکتے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان کسی بڑے معاہدے یا مفاہمت کی علامت ہوگا۔ تاہم اب تک تہران کی جانب سے اس بات کی کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی کہ ایرانی مذاکراتی وفد واقعی اسلام آباد کا رخ کرے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب صدر ٹرمپ پہلے ہی امریکی وفد بھیجنے کا اعلان کر چکے ہیں۔
اندلوسیا: ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اعلان کیا ہے کہ اسپین باضابطہ طور پر یورپی یونین سے مطالبہ کرے گا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث اسرائیل کے ساتھ اپنا ‘ایسوسی ایشن معاہدہ ختم کر دے۔
اندلوسیا میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم سانچیز نے کہا کہ منگل کے روز اسپین کی حکومت یورپی یونین کے سامنے یہ تجویز پیش کرے گی کہ اسرائیل کے ساتھ تمام تر اشتراک ختم کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے، اور ایسی صورت میں وہ یورپی یونین کا شراکت دار نہیں رہ سکتا۔ یہ ایک سادہ سی بات ہے۔
آئرلینڈ اور سلووینیا نے یورپی کمیشن کو ایک مشترکہ خط ارسال کیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ یورپی وزرائے خارجہ کے آئندہ اجلاس میں اسرائیل کے ساتھ معاہدے پر نظرثانی کی جائے۔
واشنگٹن/اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس ایران کے ساتھ ہونے والے نئے مذاکرات کے لیے پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد نہیں جائیں گے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق اس فیصلے کی واحد وجہ “سیکیورٹی خدشات” ہیں۔
اس سے قبل اقوامِ متحدہ میں امریکی مندوب مائیک والٹز اور انرجی سیکرٹری کرس رائٹ نے تصدیق کی تھی کہ پیر سے شروع ہونے والے مذاکرات کی قیادت جے ڈی وینس ہی کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے اے بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: “یہ فیصلہ صرف سیکیورٹی کی وجہ سے لیا گیا ہے۔ جے ڈی (وینس) بہترین ہیں، لیکن سیکیورٹی سب سے اہم ہے۔
یہ مذاکرات اسلام آباد میں پیر (20 اپریل 2026) سے شروع ہونے والے ہیں، جن کا مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تناؤ اور آبنائے ہرمز کی بندش جیسے مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔