ایران جنگ لائیو اپ ڈیٹس 16 اپریل سے 20 اپریل
ایران امریکہ تنازعے پر لائیو اپ ڈیٹس
واشنگٹن/اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر اپنے حالیہ بیانات میں ایران کو براہِ راست فوجی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے مجوزہ معاہدے پر دستخط نہ کیے تو امریکہ ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے گا۔
صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں واضح طور پر کہاکہ ہم ایک نہایت منصفانہ اور معقول ڈیل (معاہدہ) پیش کر رہے ہیں، اور مجھے امید ہے کہ وہ اسے قبول کر لیں گے۔ کیونکہ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو امریکہ ایران کے ایک ایک پاور پلانٹ اور ایک ایک پل کو گرا دے گا۔ یہ کام بہت تیزی اور آسانی سے مکمل کر لیا جائے گا۔
ٹرمپ نے ایران پر الزام عائد کیا کہ اس نے گزشتہ روز آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں گولیاں چلا کر ‘سیز فائر معاہدے’ کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فورسز نے ایک فرانسیسی بحری جہاز اور برطانیہ کے مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا۔
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے حوالے سے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے صدر ٹرمپ نے لکھا ایران نے حال ہی میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا، جو کہ عجیب ہے کیونکہ ہماری ناکہ بندی (Blockade) نے اسے پہلے ہی بند کر رکھا ہے۔ وہ تو انجانے میں ہماری مدد کر رہے ہیں۔
انقرہ: ترکی نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی میں توسیع ہو جائے گی جو 21 اپریل یعنی بدھ کے روز تک ہے۔
اتوار کے روز انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ ’کوئی بھی اگلے ہفتے جنگ بندی کے خاتمے پر ایک نئی جنگ نہیں دیکھنا چاہتا۔ ہمیں امید ہے کہ فریقین جنگ بندی میں توسیع کریں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ اس میں توسیع ہو گی۔ میں اس بارے میں مثبت سوچ رہا ہوں۔‘
تہران: ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘تسنیم’ کے مطابق، ایرانی حکام نے ملک کے شمال مغربی حصے سے ایک مبینہ “امریکی اور اسرائیلی جاسوسی نیٹ ورک” سے وابستہ چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
گرفتار ہونے والوں میں دو غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، تاہم ان کی شہریت ابھی ظاہر نہیں کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان افراد پر اسٹار لنک جیسی جدید سیٹلائٹ انٹرنیٹ ٹیکنالوجی غیر قانونی طور پر ملک میں درآمد کرنے کا الزام ہے۔ ایران میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کا استعمال اور اس کی درآمد ایک سنگین فوجداری جرم تصور کیا جاتا ہے۔
سکیورٹی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ نیٹ ورک دشمن ریاستوں کے لیے کام کر رہا تھا۔یہ گرفتاریاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران گزشتہ سات ہفتوں سے تقریباً مکمل انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کا شکار ہے۔
تہران / واشنگٹن : خلیج فارس میں کشیدگی کی نئی لہر اس وقت پیدا ہوئی جب ایرانی فورسز نے تزویراتی طور پر اہم آبی گزرگاہ، آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو تیل بردار بحری جہازوں (ٹانکرز) کو وارننگ دے کر واپس موڑ دیا۔
ایران کا موقف ہے کہ یہ اقدام امریکہ کی جانب سے جاری بحری ناکہ بندی کے ردعمل میں اٹھایا گیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ‘تسنیم’ کے مطابق، یہ دونوں بحری جہاز بوٹسوانا اور انگولا کے جھنڈے تلے سفر کر رہے تھے۔ ایرانی حکام نے ان جہازوں کی نقل و حرکت کو “غیر مجاز” قرار دیتے ہوئے انہیں وارننگ جاری کی، جس کے بعد جہازوں کو اپنا راستہ تبدیل کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
ایران نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مزید سخت کر رہا ہے۔ تہران کی جانب سے سمندری مسافروں اور تجارتی کمپنیوں کو واضح انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ توانائی کی اس اہم ترین عالمی گزرگاہ کو دوبارہ بند کر دیا گیا ہے۔
تہران : ایران کے آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے دوٹوک الفاظ میں دشمن کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی افواج ملک کی آزادی، علاقائی سالمیت اور سکیورٹی کے تحفظ کے لیے ‘آخری سانس’ تک لڑیں گی۔
انہوں نے زمین، فضا اور سمندر سمیت ہر محاذ پر ایران کی خودمختاری کے دفاع کا عہد کیا۔
میجر جنرل حاتمی نے کہا، “ہماری افواج دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی انگلیاں ٹریگر پر رکھے ہوئے تیار کھڑی ہیں اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گی۔”
انہوں نے واضح کیا کہ فوج دیگر مسلح شاخوں کے ساتھ مل کر دشمن کو فیصلہ کن جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے اور اپنی عسکری صلاحیتوں کو مسلسل جدید بنا رہی ہے۔
ایرانی فوجی سربراہ کا کہنا تھا کہ ان کے جوان “جہاد” اور ایثار کے جذبے سے سرشار ہیں اور اپنے مشن کی تکمیل کے لیے غیر متزلزل عزم رکھتے ہیں۔

ایران کے فاؤنڈیشن آف شہدا و سابق فوجی امور کے سربراہ احمد موسوی نے کہا ہے کہ جنگ میں شہید ہونے والے 3468 افراد کے ریکارڈ درج کیے جا رہے ہیں۔
یہ تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار ہیں جو 12 اپریل کو بتائے گئے اور ان کی تعداد پہلے بتائی گئی 3375 شہدا سے زیادہ ہے۔
سربیا کی روسی ملکیت والی آئل کمپنی کو امریکی پابندیوں کے تحت دی گئی چھوٹ میں توسیع مل گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس توسیع کے باعث کمپنی کو پابندیوں کے باوجود اپنی توانائی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت مل گئی ہے، جس سے سربیا کی توانائی سپلائی متاثر ہونے سے بچ گئی ہے۔

میرین ٹریفک کے اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری قافلے میں مائع پیٹرولیم گیس (LPG) کے چار بحری جہاز شامل ہیں، جبکہ دیگر جہازوں میں تیل کی مصنوعات اور کیمیکل لے جانے والے ٹینکرز بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مزید ٹینکرز بھی خلیج فارس کے علاقے سے اس قافلے کے پیچھے آ رہے ہیں۔
آسٹریلیا کے شہر برسبین میں “ریور ٹو دی سی” کے نعرے پر پابندی کے خلاف سینکڑوں افراد نے احتجاج کیا اور فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے سڑکوں پر نکل آئے، تاہم وہ گرفتاری سے بچنے میں کامیاب رہے۔
ریاست کوئنزلینڈ کی پولیس نے حالیہ ہفتوں میں متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں 70 سالہ جم ڈاؤلنگ بھی شامل ہیں۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہبازشریف اورپاک فوج کے سربراہ ، چیف آف ڈیفنس فورسز،فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر کو دو شاندار لوگ قرار دیا ہے۔
یہ تعریف ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو تجارت کے لیے کھولنے کے بعد سامنے آئی، جس میں پاکستان نے اہم سفارتی کردار ادا کیا۔
Mr President, on behalf of the people of Pakistan, Field Marshal Syed Asim Munir, and on my behalf, I express my deep and profound appreciation for your kind and gracious words. @realDonaldTrump pic.twitter.com/mmDYZoGlB9
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) April 17, 2026
ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پوسٹ میں لکھا:پاکستان کا شکریہ اور اس کے عظیم وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا، دو شاندار لوگ۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ٹرمپ کے اس بیان کا جواب دیتے ہوئے ایکس پر لکھا:جناب صدر،پاکستان کے عوام کی جانب سے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور میری اپنی جانب سے، میں آپ کے مہربان اور شائستہ الفاظ کے لیے اپنی گہری اور پرخلوص قدردانی کا اظہار کرتا ہوں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 5ویں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان سے اہم دوطرفہ ملاقات کی،دونوں رہنمائوں نے مشرقِ وسطی کی تازہ صورتحال سمیت اہم علاقائی پیش رفت، باہمی تعلقات اور امن کے فروغ سے متعلق امور پر پر تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور دیگر اعلی حکام شریک تھے۔ ترک وفد کی جانب سے وزیر خارجہ حقان فیدان اور سینئر سرکاری شخصیات بھی موجود تھیں۔
صدر ایردوان نے وزیراعظم کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا اور اس عالمی پلیٹ فارم کی اہمیت کو سراہا۔ انہوں نے خطے میں قیامِ امن کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترکیہ، پاکستان کی سفارتی کاوشوں کی ہر ممکن حمایت جاری رکھے گا۔
وزیراعظم نے ترک صدر کی میزبانی اور روایتی ترک مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا اور فورم کے کامیاب انعقاد پر انہیں مبارکباد پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انطالیہ ڈپلومیسی فورم تیزی سے ایک موثر عالمی مکالماتی پلیٹ فارم کے طور پر ابھر رہا ہے۔
وزیراعظم نے صدر ایردوان کو پاکستان کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع اور مذاکرات کی بحالی کے لیے جاری سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا، تاکہ پائیدار امن معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ملاقات کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ایردوان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور ترکیہ کے مابین اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جو مشترکہ تاریخ، بھائی چارے اور خطے میں امن و خوشحالی کے مشترکہ وژن پر استوار ہے۔
واضح رہے کہ شہبازشریف ایران کی جنگ رکوانے کے لیے سہ ملکی سفارتی دورے پرہیں۔
امریکی میڈیا نے بتایا ہے کہ ایران جنگ روکنے کے لیے مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں اتوار کو متوقع ہے۔
نیوز ویب سائٹ کے مطابق، امریکا ایران کے ساتھ 20 ارب ڈالر کے بدلے یورینیم معاہدے پر بھی غور کر رہا ہے۔
آبنائے ہرمزکھولنے کے ایرانی اعلان پر تیل کی قیمتیں تیزی سے گر گئیں ۔بین الاقوامی بینچ مارک برینٹ نارتھ سی کرڈ تیل پانچ فیصد گر کر 94اعشاریہ 42 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔ امریکہ میں ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ پانچ فیصد گر کر89اعشاریہ 95 الر فی بیرل ہو گیا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نےکہا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی کے بعد تجاری جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کھول رہے ہیں۔ان کا کہناتھاکہ آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے جنگ بندی کے باقی عرصے کے لیے مکمل طور پر کھلی رہے گی۔
اسرائیل اور لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے مابین دس روزہ جنگ بندی پر عمل درآمد جاری ہے، جس پر لبنانی باشندے خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ جنگ بندی عالمی وقت کے مطابق جمعرات کی رات نو بجے مؤثر ہوئی تھی۔
الجزیرہ کے مطابق ،لبنان بھر میں خوشگوار مناظر دیکھنے میں آئے، بیروت بھر میں گولیوں کی گھنٹی بج رہی تھی جب وہاں کے رہائشیوں نے جشن منانے کے بعد آدھی رات کے بعد ہوائی فائرنگ کی۔
اس فائر بندی کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات 16 اپریل کوکیا تھا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جلد ہی ایک معاہدہ طے پانے کا امکان ہے، کیونکہ مذاکرات اپنے آخری مراحل میں پہنچ چکے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرزنے پاکستانی سکیورٹی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ فریقین نے غیر رسمی سفارتی کوششوں کے ذریعے پیش رفت کی ہے اور متوقع ملاقات کا اختتام مفاہمت کی ایک یاد داشت پر دستخط کے ساتھ ہو سکتا ہے۔
توقع ہے کہ مکمل معاہدہ 60 دنوں کے اندر طے پا جائے گا۔ رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ فریقین پہلے ہی اصولی اتفاق کر چکے ہیں، جبکہ انتظامی تفصیلات کو بعد میں حتمی شکل دی جائے گی۔
ادھر صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنگ ہموار طریقے سے چل رہی ہے اور اسے بہت جلد ختم ہو جانا چاہیے۔
پاکستانی پرچم بردار آئل ٹینکر نے امریکی ناکہ بندی کے بعد آبنائے ہرمز کو کامیابی سے عبور کر لیا ہے، جسے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ پاکستانی ٹینکر نے کامیابی سے آبنائے ہرمز عبور کر لیا ہے اور خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود اپنی منزل کی جانب بڑھ رہا ہے۔
یاد رہے کہ یہ پاکستانی پرچم بردار ٹینکر گزشتہ ہفتے کے آخر میں بھی خلیج فارس میں داخل ہوا تھا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل انتو نیو گو تریش نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔
سیکرٹری جنرل انتو نیو گو تریس نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور سرحدی علاقوں میں آباد شہریوں کی مشکلات کم کرنے کی تمام کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
بیان کے مطابق یہ جنگ بندی، جو اقوام متحدہ کی جانب سے 2000 میں قائم کردہ سرحدی حد بندی “بلیو لائن” کے دونوں اطراف کشیدگی کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، مستقبل میں مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے اہم پیش رفت ہے۔
غزہ سٹی کے شجاعیہ علاقے میں اسرائیلی ڈرون حملے کے نتیجے میں پانی صاف کرنے کے ایک پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ایک فلسطینی شہید جبکہ دو زخمی ہو گئے۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے جنوب میں بھی اسرائیلی فوجی گاڑیوں نے فائرنگ کی۔
لبنان کے میڈیا ادارے لبنان 24 کے مطابق اسرائیلی فورسز نے جنوبی لبنان کے صوبہ نبطیہ کے علاقے کنین میں اسلامی ہیلتھ اتھارٹی سے وابستہ ایک ایمبولینس ٹیم کو نشانہ بنایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے ایمبولینس ٹیم کی جانب مشین گن اور توپ خانے سے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
تاہم اس رپورٹ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
ایران کا جزیرہ خارگ اس کی تیل تجارت کا مرکز ہے اور جنگ کے دوران ایک اہم ہدف بن چکا ہے۔
امریکہ نے یہاں فوجی مقامات کو نشانہ بنایا ہے اور ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی بھی نافذ کر رکھی ہے۔
تاہم اس جزیرے پر تقریباً 8 ہزار افراد رہائش پذیر ہیں۔
جنوبی کوریا کی وزارت ماہی گیری کے مطابق سعودی عرب سے تیل لے کر جانے والا ایک جنوبی کوریائی جہاز بحیرہ احمر کے راستے مشرق وسطیٰ سے روانہ ہو گیا ہے۔
یہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد خطے سے جنوبی کوریا کے لیے خام تیل کی پہلی کھیپ ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے بعد ایندھن کی قلت سے نمٹنے کے لیے جنوبی کوریا کی حکومت نے متعدد اقدامات بھی کیے ہیں۔

خلیجی ممالک نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔
سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے امریکی صدر ٹرمپ کے لبنان میں جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے لبنانی ریاست اور اس کی خودمختاری کی حمایت کا اعادہ کیا ہے، ساتھ ہی اس بات پر زور دیا ہے کہ ہتھیار صرف ریاست اور اس کے قانونی اداروں تک محدود رہنے چاہئیں۔
عمان نے بھی اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے اور اس سمجھوتے تک پہنچنے میں امریکہ کی کوششوں کو سراہا ہے۔
عمان نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کی شرائط کی پابندی کریں اور کسی بھی خلاف ورزی سے گریز کریں۔

اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لاپیڈ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی جنگ بندی پر سخت تنقید کی ہے، جس کا اعلان امریکی صدر ٹرمپ نے کیا تھا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ “یہ پہلی بار نہیں کہ اس حکومت کے تمام وعدے حقیقت کی زمین سے ٹکرا کر بکھر جاتے ہیں۔ لبنان میں جاری تصادم صرف ایک ہی صورت میں ختم ہو سکتا ہے، یعنی شمالی بستیوں کو مستقل خطرے سے مکمل طور پر ختم کیا جائے۔”
یائر لپیڈ نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت میں یہ ممکن نہیں ہو گا، تاہم وہ اسے آئندہ حکومت میں یقینی بنائیں گے۔
انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے شہریوں کے لیے ایک نہایت اہم اور طویل عرصے سے انتظار کی جانے والی مہلت قرار دیا ہے، جو کئی ہفتوں سے مسلسل تشدد کا سامنا کر رہے تھے۔
تنظیم کے مطابق لبنان میں 2,100 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، ہزاروں زخمی ہیں جبکہ 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔
اپنے بیان میں کمیٹی نے کہا کہ اس جنگ بندی کو شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی اور پائیدار امن کی بنیاد رکھنے کے لیے ایک اہم موقع کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ٹومی پیگٹ کے مطابق وزیر خارجہ مارکو روبیو نے برطانیہ کی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر سے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اگلے اقدامات پر گفتگو کی ہے۔
دونوں رہنماؤں نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی بحال کرنے کی فوری ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا، تاکہ تجارتی بحری جہاز بلا رکاوٹ گزر سکیں اور عالمی منڈیوں تک توانائی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
واضح رہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہو رہی ہے۔
امریکی نیوی ایڈوائزری کے مطابق جہازوں کی تلاشی لے کر چیک کیا جائےگا کہ کہیں ان پر ہتھیار، ویپن سسٹمز، اسلحہ، ایٹمی مواد، خام یا صاف تیل ، لوہا، اسٹیل یا المونیم تو نہیں لدا ہوا۔
شام کی عرب خبر رساں ایجنسی کے مطابق شام کی وزارت خارجہ نے لبنان میں جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے خطے میں مزید کشیدگی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ شام طویل عرصے سے ان کوششوں کی حمایت کرتا آیا ہے جن کا مقصد لبنان کے اتحاد، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنا اور اس کے عوام کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے لیے 12 بحری جہاز، 100 طیارے اور 10 ہزار سے زائد فوجی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
اس سے قبل رپورٹ کے مطابق سینٹکام نے دعویٰ کیا تھا کہ اب تک 14 بحری جہاز ناکہ بندی کی پابندی کرتے ہوئے واپس مڑ چکے ہیں۔
سینٹکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز کو بند نہیں کر رہیں بلکہ صرف ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لاس ویگاس، نیواڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ “بہت اچھے انداز میں” چل رہی ہے اور یہ “بہت جلد ختم ہو جانی چاہیے”۔
انہوں نے اپنے خطاب میں جنگ کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات جلد فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ بہت جلد اپنے اختتام کو پہنچنے والی ہے اور اس میں امریکہ کو کامیابی حاصل ہوگی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران میں جنگ اچھے طریقے سے ختم ہونے جا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں کرنا چاہتے تھے، تاہم ایران کے جوہری پروگرام کے باعث یہ قدم اٹھانا پڑا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ایران ایک مشکل اور ذہین ملک ہے اور اس کے لوگ اچھے فائٹرز ہیں۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی بحریہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا اور 158 جہاز ڈبو دیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی فوج دنیا کی بہترین فوج ہے جس کے پاس جدید ترین سازوسامان موجود ہے۔ ان کے مطابق امریکی جہازوں پر داغے گئے 111 میزائل بھی ناکام بنا دیے گئے۔
انہوں نے تیل کی عالمی قیمتوں کے حوالے سے کہا کہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ خام تیل کی قیمت 300 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے گی، تاہم موجودہ صورتحال اس کے برعکس ہے۔

لبنان کی مسلح تنظیم حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی افواج اور بستیوں پر مجموعی طور پر 75 حملے کیے۔
تنظیم کے مطابق 38 حملے لبنانی حدود کے اندر موجود اسرائیلی افواج پر کیے گئے، جبکہ 37 حملے شمالی اسرائیل میں کیے گئے۔ یہ حملے جمعرات کی رات نافذ ہونے والی جنگ بندی سے قبل کیے گئے۔
حزب اللہ کے بیان کے مطابق ان حملوں میں تین فوجی اڈے، 25 بستیاں اور شہر، چار فوجی بیرکس، پانچ سرحدی چوکیاں اور دیگر اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
لبنان کی فوج نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی متعدد خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں۔ فوج کے مطابق کئی اسرائیلی حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں، جبکہ مختلف دیہات کو وقفے وقفے سے گولہ باری کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں لبنانی فوج نے شہریوں سے ایک بار پھر اپیل کی ہے کہ وہ جنوبی علاقوں کے دیہات اور قصبوں میں واپسی کے معاملے میں احتیاط برتیں، کیونکہ ملک میں جنگ بندی پر عملدرآمد جاری ہے۔
یہ بیان اس سے قبل جاری کی گئی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں جنوبی لبنان کے رہائشیوں کو مکمل طور پر دشمنی کے خاتمے سے پہلے اپنے گھروں کو واپس نہ جانے کا مشورہ دیا گیا تھا۔
واشنگٹن: امریکا نے ایران کو اسلحہ، گولہ بارود اور ایٹمی مواد کی فراہمی روکنے کے لیے ایران جانے والے بحری جہازوں کی تلاشی کا اعلان کردیا۔
امریکی نیوی ایڈوائزری کے مطابق جہازوں کی تلاشی لے کر چیک کیا جائے گا کہ کہیں ان پر ہتھیار، ویپن سسٹمز، اسلحہ، ایٹمی مواد، خام یا صاف تیل، لوہا، اسٹیل یا المونیم تو نہیں لدا؟
امریکی نیوی ایڈوائزری کے مطابق ایران جانے والے جہازوں کی یہ تلاشی کھلے سمندروں میں کہیں بھی لے جاسکے گی۔
بیروت: حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے کسی بھی معاہدے میں ’لبنانی سرزمین پر ہر جگہ حملوں کا مکمل خاتمہ‘ اور ’اسرائیلی افواج کے لیے نقل و حرکت کی کوئی آزادی نہ ہونا‘ جیسے نکات شامل ہونا چاہییں۔
اس کے علاوہ حزب اللہ نے ’دو مارچ سے پہلے کی صورتِ حال کی بحالی‘ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اسی تاریخ کو حزب اللہ نے ایران کے رہبرِ اعلیٰ کی ہلاکت کے بدلے میں اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون حملے کیے تھے، جس کے جواب میں اسرائیل نے ملک بھر میں فضائی حملے کیے۔
حزب اللہ کا مزید کہنا ہے کہ لبنانی سرزمین پر اسرائیل کا مسلسل قبضہ لبنان اور اس کے عوام کو مزاحمت کا حق دیتا ہے۔
واشنگٹن / بیروت: نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان باضابطہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایک اور بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون کو مذاکرات کے لیے واشنگٹن مدعو کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر اپنی ایک پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے سربراہان کو وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دیں گے تاکہ دیرپا امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ “میں اسرائیلی وزیراعظم بی بی نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون کو وائٹ ہاؤس بلاؤں گا، جو 1983 کے بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان پہلے بامعنی مذاکرات ہوں گے۔”
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید لکھا کہ 1983 کے بعد یہ طویل عرصہ گزرنے کے بعد ہونے والا پہلا بڑا رابطہ ہوگا، جس سے خطے میں قیامِ امن کی نئی امیدیں وابستہ ہیں۔ انہوں نے پرامید انداز میں کہا کہ “دونوں فریق امن چاہتے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ یہ بہت جلد ممکن ہو جائے گا۔”
یاد رہے کہ اس سے قبل ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کی کامیابی کا اعلان کیا تھا، جسے انہوں نے اپنی سفارتی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والے یہ ممکنہ مذاکرات مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
تل ابیب/بیروت: سرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان میں آج رات سے ممکنہ طور پر جنگ بندی ہو سکتی ہے۔ اسرائیلی اخبار ‘ہاریٹز’ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کو اعلیٰ حکام کی جانب سے احکامات موصول ہوئے ہیں کہ وہ آج رات سے لبنان میں اپنی عسکری کارروائیاں روکنے اور جنگ بندی کے نفاذ کے لیے تیار رہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت امریکی دباؤ اور خطے میں جاری سفارتی کوششوں کے نتیجے میں سامنے آئی ہے، جس کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری شدید کشیدگی کو کم کرنا ہے۔ اسرائیلی فوجی کمانڈروں کو مبینہ طور پر ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں تعینات دستوں کو اس عارضی تعطل یا مستقل جنگ بندی کے لیے ذہنی اور عملی طور پر تیار رکھیں۔
دوسری جانب لبنانی صدر جوزف عون نے بھی اسرائیل کے ساتھ کسی بھی باضابطہ مذاکرات سے قبل جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اگرچہ باضابطہ طور پر ابھی تک فریقین کی جانب سے حتمی اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم اسرائیلی میڈیا کی یہ رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ آج رات 7 بجے (مقامی وقت) کے بعد محاذ پر خاموشی چھا جانے کا قوی امکان ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ چند دنوں سے لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں شدت دیکھی گئی تھی، جس کے بعد اب عالمی سطح پر اس جنگ کو روکنے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
تل ابیب: اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے گذشتہ روز جنوبی لبنان کے علاقے بنت جبیل میں حزب اللہ کے تقریباً 70 ٹھکانوں کو تباہ کر دیا ہے۔
یہ بیان ٹیلیگرام پر جاری کیا گیا جس کے بعد اسرائیل کے وزیرِاعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل اس علاقے میں حزب اللہ کے ایک بڑے مضبوط گڑھ کو ختم کرنے کے قریب ہے۔
اس سے پہلے اسرائیلی دفاعی افواج نے بتایا کہ اس نے رات کے دوران لبنان سے داغا گیا ایک ڈرون حملہ ناکام بنا دیا۔
فوج کے مطابق یہ ڈرون اسرائیلی بحریہ کے عملے نے مار گرایا، اور ان کا کہنا ہے کہ تنازع شروع ہونے کے بعد سے وہ ملک کی فضائی حدود کے تحفظ کے لیے تقریباً 40 دفاعی کارروائیوں میں حصہ لے چکے ہیں۔
بیروت: ایک اعلیٰ لبنانی سکیورٹی اہلکار نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اسرائیلی حملے میں جنوبی لبنان کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والا آخری پل تباہ ہو گیا ہے۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق قاسمیہ پل، جو صور اور صیدا کے علاقوں کو آپس میں ملاتا تھا، دو مسلسل حملوں میں مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ لبنان میں پلوں کو اس لیے نشانہ بناتا ہے تاکہ حزب اللہ کو ریاستی انفراسٹرکچر استعمال کرنے سے روکا جا سکے۔
اسرائیلی چیف آف سٹاف ایال زامیر نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور لبنان میں جنگ جاری رکھنے کے منصوبوں کی منظوری دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں اہداف تیار ہیں۔ جنوبی لبنان کے مغربی سیکٹر میں 162 ویں ڈویژن کی افواج کا معائنہ کرنے کے دوران انہوں نے کہا کہ کل ہم نے لبنان اور ایران دونوں مقامات پر جنگ جاری رکھنے کے منصوبوں کی توثیق کی ہے۔
ایال زامیر نے مزید کہا کہ ہم ایران کو جوہری معاملے، ہرمز اور دیگر زیرِ بحث معاملات میں کامیابیاں حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم انتہائی ہائی الرٹ کی حالت میں ہیں۔ اہداف تیار ہیں اور ہم فوری طور پر بھرپور حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے تصدیق کی کہ اسرائیلی فوج کئی محوروں پر حزب اللہ کو لگنے والے ضربات کو گہرا کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔ معرکے کے آغاز سے اب تک حزب اللہ کے 1700 سے زیادہ افراد کو مارا جا چکا ہے اور یہ اس کے لیے ایک کاری ضرب ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آبادٹاکس دوسرے مرحلے میں منعقد ہونے کی تیاریاں جاری ہیں ۔ پہلے مرحلے میں زیادہ تر اتفاق رائے کے بعد امید کی جارہی ہے کہ اس بارحتمی امن معاہدہ طے پاجائے گا۔ اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےکہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے۔
یہ بھی یادرہے کہ ایران کی طرف سے شرائط میں لبنان کے لیے بھی جنگ بندی شامل ہے۔منگل کو امریکہ نے کئی دہائیوں میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان پہلے براہِ راست مذاکرات کی میزبانی کی تھی۔ اسرائیل نے ان مذاکرات کے دوران جنگ بندی پر بحث کے امکان کو مسترد کر دیا۔ اس سے قبل تل ابیب اور واشنگٹن نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کا اطلاق لبنان میں حزب اللہ پر اسرائیل کے حملوں پر نہیں ہوتا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان طویل عرصے سے براہ راست رابطہ نہیں ہوا اور تقریباً 34 سال بعد پہلی بار اسرائیل اور لبنان کی قیادت کے درمیان بات چیت ہونے جا رہی ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، اور آئندہ مذاکرات اس حوالے سے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔
ایرانی عوام ان تمام ممالک کا شکریہ ادا کر رہے ہیں جنہوں نے کسی نہ کسی سطح پر ایران کی حمایت کی۔ اہم بات یہ ہے کہ سب سے پہلے پاکستان کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔
خلیجی ممالک میں سے بھی عمان اور بحرین کے نام اس میں شامل ہیں۔ pic.twitter.com/H0oHtqIRa3
— Daily Ummat (@ummatdigitalpk) April 16, 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے اسلام آباد کو ممکنہ مقام قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان کے کردار کو اہم ثالث کے طور پر سراہا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ ایران کے ساتھ جاری بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور اس عمل میں پاکستان واحد ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے حوالے سے پاکستان کی کوششیں قابلِ تعریف ہیں۔
ترجمان کے مطابق امریکا کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کی درخواست کی خبریں درست نہیں، تاہم معاہدے کے امکانات کے حوالے سے امید برقرار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی قیادت نے اپنے مؤقف اور شرائط واضح کر دی ہیں، اور یہ ایران کے مفاد میں ہے کہ وہ ان پر غور کرے۔
کیرولین لیویٹ نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل کے مذاکرات بھی وہیں ہوں گے جہاں پہلے ہوئے، اور اس سارے عمل میں پاکستان کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی ممالک نے مدد کی پیشکش کی، مگر امریکا پاکستان کے ذریعے ہی اس سفارتی رابطے کو جاری رکھنے کو ترجیح دیتا ہے۔
ترجمان وائٹ ہاؤس نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور مذاکرات کی کامیابی کے لیے پاکستان کی کاوشیں اہم ہیں۔